واشنگٹن (شِنہوا) امریکی ذرائع ابلاغ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور ایران کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد پہلی بار براہ راست ملاقات کی ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نمایاں تبدیلی کی عکاس ہے اور یہ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں فریق اس اہمیت کے معترف ہیں کہ باہمی تعلقات میں کشیدگی کم کی جائے اور استحکام برقرار رکھاجائے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای اب قطر اور سعودی عرب کی طرح سفارتی راستہ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان ممالک کو بھی ایران کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم وہ کشیدگی میں کمی کے لئے سفارتی کوششوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تنازع کے دوران ایران نے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں یو اے ای کو زیادہ نشانہ بنایا جبکہ ابوظہبی نے بھی متعدد مواقع پر جوابی کارروائیاں کیں اور ایران کے حوالے سے اپنے عرب ہمسایہ ممالک میں نسبتاً زیادہ سخت موقف اپنایا۔
جنگ سے قبل یو اے ای، ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شمار ہوتا تھا۔


