بیجنگ (شِنہوا) چین کے کھپت کے شعبے میں گزشتہ ماہ مسلسل بحالی کا رجحان برقرار رہا جبکہ ابھرتی ہوئی صنعتوں نے مضبوط ترقی کی رفتار دکھائی۔
چین کے اعلیٰ اقتصادی منصوبہ ساز ادارے قومی ترقی و اصلاحات کمیشن (این ڈی آر سی) کے تحت کام کرنے والے ایک تھنک ٹینک اسٹیٹ انفارمیشن سنٹر (ایس آئی سی) کے مطابق مئی میں ملک بھر میں آف لائن کھپت سے متعلق ادائیگیوں میں گزشتہ سال کی نسبت 2.4 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شرح نمو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 0.7 فیصد پوائنٹس زیادہ رہی۔
اعداد و شمار کے تفصیلی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض شعبوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ الیکٹرانک مصنوعات کی کھپت میں بالترتیب 9.7 فیصد، کیٹرنگ کی خدمات میں 5.4 فیصد اور ٹرانسپورٹ خدمات میں 4.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایس آئی سی کے محقق شنگ یوگوان نے کھپت کے شعبے میں بحالی کا سبب ملک کے اشیائے صرف تبادلہ پروگرام، خدمات کے شعبے میں کھپت بڑھانے والی حکومتی پالیسیوں اور یوم مئی کی تعطیلات سے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیوں کو قرار دیا۔
کھپت کے شعبے کے علاوہ ایس آئی سی کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ چین کی صنعتی ترقی اب تیزی سے ابھرتے ہوئے اور ذہین شعبوں کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
ادارے کے مطابق مئی میں مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹس جیسے جدید شعبوں میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ کمپیوٹنگ پاور، ڈیٹا اور نیٹ ورک انفراسٹرکچر سے متعلق منصوبوں کے ٹھیکوں کی مالیت گزشتہ سال کی نسبت 106.9 فیصد بڑھ گئی جو ان شعبوں میں تیز رفتار ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔


