ایتھنز (شِنہوا) ایتھنز میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی جہاز سازی کی صنعت تیزی سے زیادہ ماحول دوست اور سمارٹ ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے جس سے عالمی سمندری شعبے کی کم کاربن منتقلی میں نئے حل فراہم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
یہ رپورٹ چائنہ اکنامک انفارمیشن سروس کے شنگھائی ہیڈ کوارٹر، چائنہ شپ بلڈنگ اکنامک ریسرچ سنٹر اور شِنہوا نیوز ایجنسی کے یورپی علاقائی بیورو نے مشترکہ طور پر شائع کی ہے اور اسے بدھ کے روز دنیا کی معروف بحری نمائشوں میں سے ایک ’پوسیدونیا 2026‘ کے موقع پر چین کی میزبانی میں منعقدہ تقریبات کے دوران جاری کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین جدت، ماحول دوست ترقی اور جدید مینوفیکچرنگ کی بدولت دنیا کے سب سے بڑے جہاز ساز سے عالمی جہاز سازی کی صنعت کے صف اول کے ایک رہنما ملک کی طرف مستقل مزاجی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چینی شپ یارڈز نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جہاں نئے آرڈرز میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 190 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ ماحول دوست بحری جہاز مجموعی نئے آرڈرز کا 80.2 فیصد تھے اور یہ پائیدار ترقی کے لئے اس صنعت کے بڑھتے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چین نے متبادل بحری ایندھن کے لیے ایک متنوع صنعتی نظام قائم کر لیا ہے، جس میں مائع قدرتی گیس، میتھانول، امونیا اور ہائیڈروجن شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمارٹ فیکٹریوں اور ڈیجیٹل طور پر منسلک پیداواری نظاموں کی ترقی کے ذریعے جدید مینوفیکچرنگ میں بھی نمایاں پیشرفت کی ہے۔
رپورٹ میں صنعت کو درپیش کئی چیلنجز کی بھی نشاندہی کی گئی، ان میں عالمی سطح پر کاربن کا اخراج کم کرنے کے متعلق غیر یقینی صورتحال، متبادل ایندھن کے لئے ناکافی معاون سہولیات اور چھوٹے سپلائرز کے درمیان ڈیجیٹلائزیشن کا فرق شامل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ماحول دوست اور سمارٹ ترقی چین کی جہاز سازی کی صنعت کے لئے اعلیٰ معیار کی نمو کے بنیادی محرکات رہیں گے اور عالمی بحری ویلیو چین میں اس کی مزید گہری شمولیت کے معاون بنیں گے۔


