ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): فیرات محمد علی، طالبعلم، یوننان یونیورسٹی
”ہیلو دوستو، میں ترکیہ سے وُو ژینگ فُو یوننان یونیورسٹی کا بین الاقوامی طالبعلم ہوں۔ آج آپ میرے ویلاگ کے ذریعے دیکھیں گے کہ میری روزمرہ زندگی میں تحفظ کا احساس کیسے موجود ہے۔
جب ہم کلاس یا لائبریری جاتے ہیں تو ہمیں اسٹوڈنٹ آئی ڈی کارڈ استعمال کرنا ہوتا ہے۔ ہمیں فیس ریکگنیشن (چہرہ شناسی) بھی کرانا پڑتی ہے۔ اس صورتحال سے ہمیں تحفظ کا بھرپور احساس ہوتا ہے۔“
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): فیرات محمد علی / ژانگ رُوئی، طالبعلم / نائب ڈائریکٹر، سکیورٹی دفتر، یوننان یونیورسٹی
”ہیلو مسٹر ژانگ۔
ہیلو وُو، آج آپ کہاں گئے تھے؟
میں ابھی لائبریری سے آیا ہوں۔ کیا آپ یونیورسٹی کیمپس کی سکیورٹی کے حوالے سے بتا سکتے ہیں؟
کیا آپ نے یہ سی سی ٹی وی کیمرے دیکھے ہیں؟ یونیورسٹی نے تمام اہم مقامات، مرکزی سڑکوں اور داخلی و خارجی راستوں پر کیمروں کے ذریعے مکمل نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ سکیورٹی آفس کا عملہ اور محافظ 24 گھنٹے ڈیوٹی پر ہوتے ہیں اور باقاعدگی سے گشت کرتے ہیں۔
فیس ریکگنیشن (چہرہ شناسی) اور کارڈ سسٹم دونوں حقیقی شناخت پر مبنی ہیں۔ اس کی وجہ سے غیر متعلقہ افراد داخل نہیں ہو سکتے۔ اس طرح طلبہ اور سارے کیمپس کی بہتر حفاظت ممکن ہوتی ہے۔
تعارف کرانے کا آپ کا شکریہ۔مسٹر ژانگ، خدا حافظ!“
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): فیرات محمد علی، طالبعلم، یوننان یونیورسٹی
”میں اکثر اس کافی شاپ پر آتا ہوں۔ میں یہاں کافی پیتا ہوں اور کتابیں بھی پڑھتا ہوں۔ میں اپنا بیگ اپنی جگہ پر چھوڑ دیتا ہوں اور کسی بات کی فکر نہیں کرتا۔ پہلی بار جب میں اس کافی شاپ پر آیا تو میرے ایک استاد نے فون کر کے مجھے بلا لیا ۔ تب میں اپنا کمپیوٹر اور بیگ یہیں بھول گیا تھا۔ چار یا پانچ گھنٹے بعد جب میں یہاں واپس آیا تو سب کچھ اپنی جگہ پر موجود تھا۔
دیکھیں، یہ ایک بغیر عملے کی دکان ہےجہاں صارفین خود خریداری اور ادائیگی کرتے ہیں۔ میں اکثر یہاں آتا رہتا ہوں۔ یہاں ہر چیز خود کرنا ہوتی ہے۔ بہت آسانی اور سہولت والا نظام ہے۔ ادائیگی بھی بہت آسان ہے، بس وی چیٹ کھولیں اور کوڈ اسکین کریں۔ یہاں کوئی نگرانی کرنے والا موجود نہیں لیکن پھر بھی چوری کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
آج میں نے کونمنگ کی کئی سڑکوں پر چہل قدمی کی۔ آپ بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ چین میں تحفظ کا احساس روزمرہ زندگی میں شامل ہے۔ ہر ایک اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں اور ذہنی سکون کے ساتھ زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ چین میں یہ میرا سب سے قیمتی تجربہ ہے۔“
کونمنگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


