یانگون میں منعقد ہونے والے عالمی روبوٹ مقابلے (ڈبلیو آر سی) میانمار چیمپئن شپ 2026 میں شریک نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اس مقابلے سے ان کا اعتماد بڑھا اور مسائل حل کرنے کی اُن کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایونٹ میں شرکت سے انہیں روبوٹکس، کوڈنگ اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں قیمتی تجربہ حاصل ہوا۔
عالمی روبوٹ مقابلہ اتوار کے روز یانگون میں منعقد ہوا جس کا اہتمام میانمار کے ایک تعلیمی اور روبوٹکس کوڈنگ سینٹر ٹائٹن ایجو نے کیا تھا۔
مقابلے میں شریک 11 سالہ نوجوان ہان تھی تھی ٹن نے بتایا کہ اس مقابلے نے ٹیم ورک اور مختلف چیلنجز کے ذریعے اس کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): ہان تھی تھی ٹن، مقابلے میں شریک طالبہ
”میرا خیال ہے کہ اس مقابلے سے ہمیں زیادہ اعتماد حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ ہم گروپس کی صورت میں کام کرنے کی وجہ سے خود کو زیادہ آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ نوجوانی کے عرصہ میں کی جانے والی بہترین سرگرمیوں میں سے ایک ہے چاہے آپ اسے شوق کہیں یا پیشہ۔“
عالمی روبوٹ مقابلہ میانمار چیمپئن شپ کا انعقاد میانمار میں سال 2024 سے ہو رہا ہے اور رواں برس کا ایونٹ اس کا تیسرا ایڈیشن تھا۔
رواں برس کی چیمپئن شپ میں ملک بھر سے 100 سے زائد ٹیموں کے 200 سے زیادہ شرکاء نے حصہ لیا جن کی عمریں 7 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔
یانگون، میانمار سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


