ہومانٹرنیشنلہنوئی میں چینی سرمایہ کاری سے کچرے سے بجلی بنانے کا پلانٹ...

ہنوئی میں چینی سرمایہ کاری سے کچرے سے بجلی بنانے کا پلانٹ ماحول دوست تبدیلی میں مددگار

ہنوئی (شِنہوا) ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی کے مضافات میں ترنگ جیا کمیون کے کھیتوں میں کسان موسم گرما کی تپتی دھوپ میں سنہری پکی ہوئی دھان کی فصل کی کٹائی میں مصروف ہیں۔

مقامی باشندوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح ماضی کا ایک بدبودار کچراکنڈی اب چاول کے وسیع و عریض کھیتوں میں تبدیل ہو چکی ہے اور یہ سب چینی سرمایہ کاری سے قائم کچرے سے بجلی بنانے والے پلانٹ سوک سون کی بدولت ممکن ہوا ہے۔

ایک مقامی رہائشی نگوین وان دو نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کسی دور میں پورے شہر کا گھریلو کچرا یہاں لا کر پھینکا جاتا تھا جس سے شدید ماحولیاتی آلودگی پیدا ہوتی تھی اور ان کے خاندان کی صحت خراب ہو رہی تھی۔

دو نے کہا کہ "ماحول شدید آلودہ تھا اور یہاں سے انتہائی خوفناک بدبو آتی تھی۔ مکھیوں اور مچھروں کے جھنڈ کے جھنڈ لگے رہتے تھے خاص طور پر نمی والے موسم میں، جس نے میری بیوی، بچوں اور میری اپنے نظام تنفس کو بہت نقصان پہنچایا۔”

دو نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پہلے شہر کا زیادہ تر کچرا میدانوں میں لایا جاتا تھا جہاں اس کے "پہاڑوں جیسے اونچے” ڈھیر لگ جاتے تھے۔ اب اس پلانٹ کی وجہ سے ان کے خاندان کو کھانا کھاتے وقت مکھیوں اور مچھروں سے بچنے کے لئے مچھر دانی لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں