اسلام آباد (لارڈ میڈیا): بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے اگلے مالی سال کے بجٹ پر منظوری کی مہر لگا دی ہے۔ آئی ایم ایف کے مشن نے حالیہ دورے میں بجٹ حکمت عملی اور معاشی اصلاحات کا جائزہ لیا۔
آئی ایم ایف کی جانب سے بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں کٹوتیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پاکستان 2019ء سے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کا سامنا کر رہا ہے اور اس کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں بجٹ کٹوتی کی گئی ہے۔
بجٹ میں کرنٹ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے قرضوں کے سود کی ادائیگی کو ترجیح دی گئی ہے۔ حکومتی پالیسی میں کرنٹ اخراجات کی ادائیگی پر زور دیا گیا ہے جبکہ ترقیاتی اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔
ٹیکس کے حوالے سے بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ متوقع ہے اور سپر ٹیکس کی تجویز بھی شامل ہے۔ زرعی انکم ٹیکس میں بھی اضافے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف نے بنیادی اشیاء پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔


