اقوام متحدہ (شِنہوا) چین نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی اصل وجہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف غیر قانونی فوجی کارروائیاں ہیں۔
اس کے علاوہ حال ہی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود امریکہ نے اپنی فوجی تعیناتی بڑھا دی ہے اور ایران کے خلاف ہدف پر مبنی ناکہ بندیاں عائد کی ہیں۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ نے کہا کہ یہ ایک خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔
فو کانگ نے سمندری راستوں کی سلامتی اور تحفظ سے متعلق سلامتی کونسل کے ایک کھلے مباحثے میں کہا کہ ’’آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے خاتمے کا حل یہ ہے کہ جلد از جلد ایک جامع اور پائیدار جنگ بندی حاصل کی جائے تاکہ خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام بحال ہو سکے۔‘‘
فو کانگ نے کہا کہ چین پاکستان اور دیگر ممالک کی ثالثی کے کردار کو سراہتا ہے اور تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ تنازعات اور اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں۔ چین ہر اس اقدام کی مخالفت کرتا ہے جو جنگ بندی کو نقصان پہنچائے اور کشیدگی یا مزید تصادم کو بڑھائے۔ انہوں نے کہا کہ چین علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
فو کانگ نے کہا کہ "بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں کا استحکام اور بلا تعطل آپریشن اردگرد کے خطے، خصوصاً ساحلی ممالک میں امن و استحکام سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ صرف بات چیت اور مشاورت کے ذریعے ہی ہم حساس تنازعات کی شدت کم کر سکتے ہیں اور ان راستوں کی سلامتی کے لئے سازگار ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ طاقت کے حد سے زیادہ استعمال سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس سے کشیدگی، تصادم اور سلامتی کے مزید سنگین بحران پیدا ہوتے ہیں۔


