چین کے جنوب مغربی صوبہ یوننان میں بہار کے ساتھ ہی چائے کی تازہ پتیاں توڑنے کا موسم بھی شروع ہو گیا ہے۔ چائے کے کاشتکار فصل کی کٹائی میں مصروف ہیں۔
یہ ننگ ار ہانی اور یی خودمختار کاؤنٹی کے دیہوا ٹاؤن شپ کا گاؤں ہوانگ تیان ہے۔ یہاں واقع یونپان پہاڑ پر کسانوں نے ٹوکریاں، سیڑھیاں اور خصوصی تیار کی گئی ہُکس اٹھا رکھی ہیں اور وہ چائے کے قدیم جنگلات میں گھومتے ہوئے کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بہت سے چائے کے درخت تین میٹر سے بھی زیادہ بلند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ کسان اوپر والی شاخوں تک پہنچنے کے لئے سیڑھیاں استعمال کرتے ہیں جبکہ دیگر کسان ہکس کے ذریعے شاخوں کو قریب لا کر احتیاط سے نرم پتیاں توڑتے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): یانگ می ینگ، مقامی کسان
” اب یہ اونچے درختوں سے چائے کے پتے توڑنے کا موسم ہے۔ ہم سب بہت مصروف ہیں۔ سیڑھی نما کھیتوں کے مقابلے میں اِن اونچے درختوں سے چائے کی پتیاں توڑنا زیادہ محنت طلب کام ہے اور اس مقصد کے لئے خصوصی اوزاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔”
یونپان پہاڑ پر چائے کا یہ باغ سطح سمندر سے 1700 میٹر سے زیادہ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں کے درخت کئی دہائیاں پرانے ہیں جبکہ بعض کی عمر سو سال سے بھی زیادہ ہے۔ کٹائی کے بعد تازہ پتیاں اسی دن روایتی طریقوں سے تیار کی جاتی ہیں۔ اس عمل میں پتیوں کو مرجھانے کے لئے پھیلا کر رکھنا، کڑاہی میں بھوننا، انہیں رول کرنا اور دھوپ میں خشک کرنا شامل ہے۔ اس کے بعد دھوپ میں خشک کی گئی خام چائے تیار ہوتی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): لی روئی فینگ، پارٹی برانچ سیکرٹری، ہوانگ تیان گاؤں
"رواں برس سازگار موسم کے باعث پودے کی کلیاں بھرپور تھیں اور اعلیٰ معیار کی بہار کی چائے حاصل ہوئی ہے۔ ہر مرحلے پر سخت نگرانی کے باعث بڑے درختوں والی چائے کی منفرد خوشبو اور بھرپور ذائقہ برقرار رکھنے میں مدد ملی۔ مضبوط طلب اور مسلسل آرڈرز کے باعث رواں برس بہار کی چائے کو مارکیٹ میں بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔”


