ہومتازہ ترینبیجنگ میں اطالوی شہری کا ریستوران مہمانوں کو گھر جیسا ماحول فراہم...

بیجنگ میں اطالوی شہری کا ریستوران مہمانوں کو گھر جیسا ماحول فراہم کر رہا ہے

بیجنگ کے قدیم ہوتونگ علاقے نیوجی میں ایک اطالوی کاروباری شخص نے ریسٹورنٹ کھولا ہے۔ اس اطالوی ریسٹورنٹ کی تعمیر میں اصل فنِ تعمیر کو برقرار رکھتے ہوئے جدید بحیرہ روم کی جمالیاتی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): عمر ماسیرولی، مالک، اطالوی ریسٹورنٹ، بیجنگ

"سلام، صبح بخیر! میرا نام عمر ہے۔ میں سال 2005 سے بیجنگ میں رہ رہا ہوں۔ یہ میرا اطالوی ریستوران ہے جو ہوتونگ میں واقع ہے۔ خوش آمدید!

بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں ایک اطالوی ہونے کے ناطے سانلیتون کیوں نہیں گیا اور میں نےرہائش رکھنے کے لئے اس قدیم علاقے ہوتونگ ہی کا انتخاب کیوں کیا۔ میرے خیال میں ہوتونگ کے علاقے سے آگےفے یوآن ٹیمپل کی طرح مجھے اپنے لئے چینی طرز زندگی کا سب سے مستند ذائقہ ملتا ہے اور اور میرے لئے یہ جگہ بیجنگ کی اصل روح کو بھی محسوس کرواتی ہے۔ اس لئے میں خود کو شہر کے اس علاقے سے بہت قریب محسوس کرتا ہوں۔

مجھے فےیوآن ٹیمپل پسند ہے کیونکہ یہ ایک پرسکون اور بہت آرام دہ جگہ ہے۔ یہاں خوبصورت پویلین اور قدیم درخت ہیں۔ لیکن جیسے ہی آپ ہوتونگ سے باہر قدم رکھتے ہیں وہاں کا منظر بالکل مختلف ہوتا ہے۔لوگ ادھر اُدھر چل رہے ہوتے ہیں اور اپنا کاروبار بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک بہت خوبصورت امتزاج ہے۔یہ مجھے کچھ حد تک اپنے ریسٹورنٹ میں تخلیق کرنے کی کوشش کی یاد دلاتا ہے۔ اگر آپ باہر سے دیکھیں تو روایتی چینی صحن میں رنگین شیشوں کے ساتھ ہمارا باہر کا حصہ بہت پرامن اور پرسکون ہے۔ لیکن جیسے ہی مہمان دروازہ کھول کر اندر قدم رکھتے ہیں تو انہیں بالکل مختلف تجربہ ملتا ہے۔ اندر کےحصے میں بہت زہادہ اطالوی انداز ہے، گرمجوش اور پرجوش جگہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ چاہے وہ یہاں رہتے ہوں، کام کرتے ہوں یا بس گزر رہے ہوں، یہاں خوش آمدید کہنے کا احساس پائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ محلے میں اصلی اطالوی ذائقہ اور ماحول لے آئیں۔”

عمر کے مطابق مقامی بستی کی دوستانہ گرمجوشی نے ایک غیر ملکی شہر کو گھر میں بدل دیا۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (اردو ترجمہ): عمر ماسیرولی، بیجنگ میں اطالوی ریسٹورنٹ کے مالک

"میں نے بزنس اور اکنامکس کی تعلیم حاصل کی۔ اس دوران چین ترقی اور تبدیلیوں کی وجہ سے ہماری مطالعاتی گفتگو کا موضوع بن گیا۔ تب میں نے سوچا کہ میرے لئے یہ قدرتی ربط بن گیا ہے کہ میں اپنی تحقیق کی ذاتی خواہش اور کاروباری مطالعے کے ساتھ چین کو دریافت کروں۔ اپنے بزنس اسکول کے ذریعے مجھے بیجنگ آنے کا موقع ملا اور پھر میں کبھی واپس نہیں گیا۔

جب میں پہلی بار بیجنگ آیا تو میں مینڈرین زبان نہیں بول سکتا تھا۔ زبان کی رکاوٹ اور ثقافتی فرق یقیناً بڑا چیلنج تھا۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں نے ہتونگ میں ایک انسانی رابطہ محسوس کیا جس نے مجھے اس نئے ماحول میں خود کو فٹ کرنے میں مدد دی۔ یہ ماحول گھر سے مختلف تھا لیکن اس نے مجھے گمشدگی کا احساس نہیں ہونے دیا۔

بیجنگ ہمیشہ ایک بڑا بین الاقوامی شہر رہا ہے جہاں دنیا کے ہر کونے سے لوگ آتے ہیں۔ بیجنگ میں رہتے ہوئے میں نے ایک وقت میں محسوس کیا کہ یہ کچھ حد تک میرے وطن اٹلی جیسا بھی ہے۔یہاں تاریخ کے کئی تہہ دار پہلو ہیں، فنِ تعمیر کی خوبصورتی اور شہری ڈیزائن کی دلکشی بھی موجود ہے۔ اس بات نے مجھے بہت سے نئے لوگوں اور دوستوں سے ملنے، نئے تعلقات بنانے کے مواقع فراہم کئے۔

کئی برسوں کے دوران بہت سے نوجوان جدید طرز کے چینی مہمان ہمارے اطالوی کھانوں کی طرح کے مغربی ذائقوں کی طرف زیادہ راغب ہوئے ہیں۔ ان میں سے کئی بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں، اٹلی جاتے ہیں اور جب واپس بیجنگ آتے ہیں تو وہ انہی کھانوں سے دوبارہ لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں جو انہوں نے وہاں چکھے۔ ہمارے لئے یہ صرف کاروبار یا ریسٹورنٹ نہیں ہے بلکہ ایک کھلا گھر ہے۔ ایک بڑا گھر جہاں ہم بیجنگ سے، چین سے اور ظاہر ہے دنیا کے دیگر ممالک سے آئے ہوئے دوستوں اور مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں۔”

بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں