ہومتازہ ترینچین کے مستقبل پر مبنی کاروبار اور متحرک اختراعی ماحولیاتی نظام بہت...

چین کے مستقبل پر مبنی کاروبار اور متحرک اختراعی ماحولیاتی نظام بہت متاثر کن ہے، ایم ڈی عالمی اقتصادی فورم

تیانجن (شِنہوا) عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر جم ہوئے نیو نے کہا ہے کہ چین کی پر امید سوچ، مستقبل کو مدنظر رکھنے والے کاروبار اور متحرک اختراعی ماحولیاتی نظام بہت متاثر کن ہیں۔

تیانجن 2026 عالمی بزنس لیڈرز گول میز مذاکرہ، جو بدھ سے جمعرات تک چین کی شمالی تیانجن بلدیہ میں منعقد ہوا، کے دوران شِنہوا کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں جم ہوئے نیو نے کہا کہ ڈبلیو ای ایف کی طرف سے حال ہی میں دنیا بھر کے کاروباروں کے حوالے سے کئے گئے سروے میں چین کے کاروباری رہنماؤں اور ملازمتوں کی منڈی میں نئے داخل ہونے والے افراد نے اپنے مستقبل کے امکانات پر ٹیکنالوجی کے اثرات کے حوالے سے بہت زیادہ پر امیدی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیداوار میں اضافہ کرنے، نئے امکانات لانے اور معیاری پیداوار بڑھانے کے لئے چین میں بہت سی صنعتوں میں ٹیکنالوجی کو اپنانے کی طلب زیادہ ہے۔

نیو نے کہا کہ چین نے پچھلی دہائیوں میں ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کی ہے، لیکن اصل ‘آہا لمحہ’ اس وقت آیا جب ڈیپ سیک نے گزشتہ سال کے شروع میں اپنا آغاز کیا اور اچانک اس بات پر بہت توجہ مرکوز ہوئی کہ چین نے ٹیکنالوجی میں کتنی دور تک اور کتنی گہرائی سے سرمایہ کاری کی ہے اور یہ ٹیکنالوجی اس وقت صنعتوں، معیشت اور سماج میں کس حد تک پھیل چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی کاروباری اداروں اور حکومتوں کی جانب سے چین کی صلاحیتوں کو دیکھنے میں بہت دلچسپی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ انہیں توقع ہے کہ وہ چین کے بہترین طریقہ کار اور اس کے تجربات سے سیکھیں گے اور یہ جانیں گے کہ وہ چین کے ساتھ کہاں تعاون کر سکتے ہیں، چاہے وہ صلاحیتیں بڑھانے کے لئے ہو، چینی ٹیکنالوجی کا لائسنس حاصل کرنے کے لئے ہو یا اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لئے ہو اور یہ بھی کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے ثمرات سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

نیو نے مزید نشاندہی کی کہ چین کے ساتھ کثیر القومی کمپنیوں کے تعلقات کے انداز میں تبدیلی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی بین الاقوامی کمپنیاں اب صرف چین میں مینوفیکچرنگ مراکز قائم کرنے پر توجہ نہیں دے رہیں بلکہ وہ جدت کے مراکز قائم کرنے کی خواہاں ہیں تاکہ باصلاحیت افرادی قوت کے وسیع ذخیرے سے فائدہ اٹھایا جا سکے، معیشت کے مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کے جدید استعمال کو سمجھا جا سکے اور ان منڈیوں کے قریب رہا جا سکے جہاں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں