ہومتازہ تریناے آئی کی ترقی کا عالمی مرکز بتدریج ایشیا کی جانب منتقل...

اے آئی کی ترقی کا عالمی مرکز بتدریج ایشیا کی جانب منتقل ہو رہا ہے

بوآؤ، ہائی نان (شِنہوا) مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کا عالمی مرکز بتدریج یورپ اور امریکہ سے ایشیا کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

بواؤ فورم برائے ایشیا کی جانب سے جاری ہونے والے ایشیائی اکنامک آؤٹ لک اور مربوط ترقی کے متعلق سالانہ رپورٹ 2026 میں کہا گیا ہے کہ ایشیائی معیشتیں اپنی وسیع ڈیجیٹل آبادی، متنوع ایپلی کیشن سسٹمز اور مربوط پالیسی فریم ورک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تیزی سے اے آئی کے پیروکاروں سے رہنماؤں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے اعلیٰ سطح پر صنعتی سلسلے کی مکمل پختگی حاصل کر لی ہے اور بڑے پیمانے پر عملدرآمد میں مضبوط صلاحیتیں ظاہر کی ہیں، جبکہ جاپان اور جمہوریہ کوریا اپنی کوششیں اعلیٰ معیار کی پیداوار اور صنعتی خودکاری پر مرکوز کرتے ہیں۔ سنگاپور، جو ایپلیکیشن کی بنیاد پر ترقی کا ماڈل ہے، نظم و نسق میں جدت کے لئے اہم کردار ادا کرتا ہے اور ایک پلیٹ فارم ہب کے طور پر کام کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایشیا کی "ذہین ترقی” کو تقویت دینے والے بنیادی عوامل کثیر جہتی ہیں جن میں قومی سطح پر ضروری ادارہ جاتی حمایت، اطلاق کے پیمانے، ڈیٹا کی تخلیق اور مسلسل بہتری پر مشتمل ایک طاقتور فیڈ بیک نظام شامل ہے جس نے صنعت کاری کو تیز کیا، نیز بنیادی صنعتوں کے ساتھ گہرا انضمام بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تکنیکی حل اور عملی نفاذ کے تجربات کو بیرون ملک برآمد کر کے ایشیائی معیشتیں بتدریج محض قواعد کی پیروی کرنے والوں سے فعال طور پر قواعد سازی میں حصہ لینے والوں اور نئے راستے فراہم کرنے والوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں