ہومتازہ ترینچین میں سرکاری اداروں کے سربراہان کے لئے دیانتداری کے قواعد مزید...

چین میں سرکاری اداروں کے سربراہان کے لئے دیانتداری کے قواعد مزید سخت

بیجنگ (شِنہوا) چین نے سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے سربراہان کے لئے دیانتداری اور شفاف طرز عمل سے متعلق نظرثانی شدہ قواعد جاری کر دیئے ہیں جن کے ذریعے بدعنوانی کی روک تھام اور ریاستی اثاثوں کے تحفظ کے لئے نگرانی کو مزید سخت بنایا گیا ہے۔

یہ قواعد، جن کی پہلی منظوری 2009 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو نے دی تھی اور حال ہی میں ان میں ترمیم کی گئی ہے، 28 فروری کو سی پی سی کی مرکزی کمیٹی اور ریاستی کونسل کے جنرل دفاتر کی جانب سے جاری کئے گئے۔

یہ قواعد مکمل طور پر سرکاری ملکیت اور سرکاری کنٹرول میں چلنے والے اداروں کے سربراہان پر لاگو ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا اطلاق مالیاتی کمپنیوں اور ان کی شاخوں سمیت ریاست کے زیر کنٹرول اداروں پر بھی ہوگا۔

ان اداروں کے سربراہان پر لازم ہے کہ وہ پارٹی کے وفادار رہیں، قانون کے مطابق اور شفاف انداز میں کام کریں، مفادات کے ٹکراؤ سے بچیں، کارکنوں کے حقوق اور عوامی مفاد کا تحفظ کریں اور مرکزی ہدایات کے مطابق سادگی اختیار کریں۔

قواعد کے مطابق انہیں اختیارات کے ناجائز استعمال، ریاستی اثاثوں کو نقصان پہنچانے، ذاتی فائدے کے لئے اپنے عہدے کا استعمال کرنے، غیر مجاز کاروباری سرگرمیوں یا سرمایہ کاری میں ملوث ہونے، اقربا پروری یا جانبداری دکھانے، قلیل مدتی سیاسی کامیابیوں کے حصول کے لئے ادارے کے استحکام کو خطرے میں ڈالنے، رسمی کارروائیوں، بیوروکریسی، فضول خرچی اور ذاتی یا غیر مناسب مقاصد کے لئے ادارے کے فنڈز کے غلط استعمال سے سختی سے روکا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق ان سربراہان کو سالانہ رپورٹ دینا ہوگی اور پارٹی ان پر مسلسل نظر رکھے گی، اس کے ساتھ خاص جانچ پڑتال بھی کی جائے گی اور پارٹی کی نگرانی کو آڈٹ، ریگولیٹری اداروں، شیئر ہولڈرز اور ملازمین کی نگرانی کے ساتھ جوڑا جائے گا۔

قواعد میں بیرون ملک امور کے لئے خاص حفاظتی اقدامات پر زور دیا گیا ہے اور عہدہ چھوڑنے والے سربراہان کے لئے سخت نگرانی رکھی گئی ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو ضرورت کے مطابق انضباطی، انتظامی اور فوجداری سزائیں دی جائیں گی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں