ہومتازہ ترینبی اے ایس ایف کا  چین میں سرمایہ کاری بڑھانے کا فیصلہ...

بی اے ایس ایف کا  چین میں سرمایہ کاری بڑھانے کا فیصلہ درست ہے، چیف ایگزیکٹو آفیسر

جرمن کیمیکل کمپنی بی اے ایس ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا ہے کہ کمپنی کی جانب سے چین میں اپنی وابستگی کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ درست ہے کیونکہ چین تحقیق، ترقی اور ماحول دوست تبدیلی کے لئے تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی) : مارکس کامیتھ، چیئرمین بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، سی ای او بی اے ایس ایف

” چین ہمارے لئے تحقیق اور ترقی کے حوالے سے ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ اسی لئے اب ضروری ہو گیا ہے کہ چینی منڈی کے لئے زیادہ سے زیادہ مصنوعات چین میں ہی تیار کی جائیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری صارف صنعتوں نے چین میں اپنی جدت طرازی کی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔ مثال کے طور پر آٹو موبائل صنعت میں چین میں فروخت ہونے والی بہت سی گاڑیاں اکثر چین ہی میں تیار اور ڈیزائن کی جاتی ہیں۔ اس طرح اپنے صارفین کی سہولت کے لئے چین میں ہماری موجودگی بھی ضروری ہے۔ہم نے کافی عرصہ پہلے شنگھائی میں ایک اہم اختراعی مرکز قائم کیا تھا۔دنیا میں ہمارا دوسرا بڑا کیمیکل انوویشن سینٹر بھی شنگھائی میں واقع ہے۔ یہ بھی ہمارا اہم اختراعی مرکز ہے۔”

لُڈوِگس ہافن میں کمپنی کے ہیڈکوارٹر میں سالانہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی اے ایس ایف نے اعلان کیا کہ چین کے جنوبی صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر ژان جیانگ میں اس نے اپنے مربوط کیمیائی کمپلیکس میں بڑے پلانٹس کو کامیابی کے ساتھ فعال کر دیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق سال 2019 سے سال 2028 کے درمیان 8 اعشاریہ 7 ارب یورو کی سرمایہ کاری کے ساتھ ژان جیانگ منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کیمیکل منڈی میں طویل مدتی منافع اور پائیدار ترقی کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

بی اے ایس ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارکوس کامیتھ نے کہا کہ ژان جیانگ منصوبے کی کم کاربن پیداوار کی صلاحیتیں چین کی معیشت میں ماحول دوست تبدیلی کے تناظر میں انتہائی اہم ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی) : مارکس کامیتھ، چیئرمین بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، سی ای او بی اے ایس ایف

"چین یقیناً بی اے ایس ایف کے لئے ایک انتہائی اہم منڈی ہے۔ بی اے ایس ایف نے چین میں 140 برس سے زیادہ عرصہ کام کیا ہے۔ گزشتہ 30سے 40 برس کے دوران چین میں بی اے ایس ایف کی نمایاں اور منافع بخش ترقی ہوئی۔ ہم چاہتے ہیں کہ چین کی معیشت اور صارفین کی صنعتوں کی ترقی میں حصہ لیں۔ گوانگ ڈونگ میں اپنی نئی سرمایہ کاری کے ذریعے ہم جدید ترین ٹیکنالوجی اور مربوط انضمامی صلاحیتیں بھی چینی منڈی میں لا رہے ہیں۔اس سے ہمیں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے کم اخراج کے حوالے سے مسابقتی برتری بھی حاصل ہوگی جو چین کی معیشت میں جاری ماحول دوست تبدیلی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ چین میں یہ ماحولیاتی تبدیلی ایک بڑا موقع ہے اور ہم چین میں اپنی ترقیاتی حکمت عملی پر یقین رکھتے ہیں۔ بی اے ایس ایف کے طور پر ہمیں خاص فائدہ حاصل ہے۔”

کامیتھ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ یہ منصوبہ اگلے سال منافع دینا شروع کر دے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے پیداوار کے بنیادی ڈھانچے کے درمیانی اور طویل مدتی امکانات پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔

اس وقت بی اے ایس ایف کی کل فروخت میں تقریباً 13 فیصد حصہ چین کا ہے۔ چونکہ ژانگ جیانگ سائٹ کی پیداوار بڑھ رہی ہے اس لئے کامیتھ کا کہنا ہے کہ یہ حصہ 15 سے 20 فیصد تک مزید بڑھ سکتا ہے۔

جرمنی کے شہر لُڈوِگس ہافن سے شنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

جرمن کیمیکل کمپنی نے چین میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا دی ہے

چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کمپنی کے فیصلے کو درست قرار دیا

چین تحقیق، ترقی اور ماحول دوست تبدیلی کے لئے اہمیت اختیار کر چکا

چینی منڈی کے لئے مصنوعات کی تیاری میں زیادہ توجہ دی جا رہی ہے

بی اے ایس ایف نے شنگھائی میں ایک اہم اختراعی مرکز قائم کیا ہے

ژان جیانگ منصوبے میں کم کاربن پیداوار کی صلاحیتیں شامل ہیں

کمپنی سال 2028 تک 8.7 ارب یورو کی سرمایہ کاری کرے گی

بی اے ایس ایف نے جدید ٹیکنالوجی اور مربوط انضمامی صلاحیتیں متعارف کرائیں

منصوبے سے چین میں ماحول دوست معیشت کے لئےقیمتی مواقع ملیں گے

ژان جیانگ سائٹ کی پیداوار بڑھنے سے کمپنی کی فروخت بھی بڑھے گی

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں