ایک فرانسیسی ماہر نے عالمی حکمرانی میں چین کے کردار کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین بلاشبہ ایک استحکام کار اور اصلاح پسند دونوں کے طور پر کام کر رہا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ (فرانسیسی): ہروے آزولے، پروفیسر، سلک روڈ بزنس اسکول، فرانس
"چین اب ایک ثانوی کردار نہیں رہا۔ یہ ایک بنیادی قوت بن چکا ہے اور عالمی نظام کی تشکیل میں ایک اہم شریک کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔
چین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور جی 20 جیسی عالمی تنظیموں میں اب ایک ناگزیر مقام رکھتا ہے۔یہ کثیرالجہتی نظام کا ایک لازمی محافظ ہے اور یہ اس کے مفاد میں بھی ہے کیونکہ اس سے تجارتی نظام مستحکم اور قابلِ پیش گوئی رہتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ چین کا عالمی معیار پر اثر بڑھ رہا ہے۔ اداروں کے علاوہ وہ خاص طور پر ٹیلی کمیونیکیشن، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بین الاقوامی معیار بنانے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے ترقیاتی وسائل میں تنوع ممکن ہوا ہے۔ چین نے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور برکس تنظیم جیسے متبادل نظاموں کو مضبوط بنانے میں مدد کی ہے۔ عالمی جنوب کے لئے یہ اقدامات اضافی مالی مدد فراہم کرتے ہیں، جو مغرب کے زیر اثر روایتی نظام کے متبادل ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی عوامی وسائل کے حوالے سے چین قابل تجدید توانائی میں ایک اہم سرمایہ کار بھی ہے۔ اس کی صنعتی صلاحیت نے شمسی توانائی اور بیٹریوں کی لاگت کم کرنے میں مدد دی جس کے نتیجے میں پیرس معاہدے کو عملی شکل دینے میں آسانی ہوئی۔ماحولیاتی تبدیلی، عالمی صحت اور مالی استحکام کے شعبوں میں چین کی شرکت اب لازمی ہو گئی ہے۔ چین بیک وقت دو اہم کردار ادا کر رہا ہے۔وہ عالمی حکمرانی کے نظام میں استحکام فراہم کرنے کے ساتھ اصلاحات کو بھی فروغ دیتا ہے۔”
پیرس سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


