انقرہ (شِنہوا) انقرہ میں چینی زبان و ادب کے ماہر نے کہا ہے کہ ترک عوام میں چینی زبان اور ادب میں دلچسپی بڑھ رہی ہے جو چین کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔
حاجی بیرم ولی یونیورسٹی میں شعبہ چینی زبان و ادب کے سربراہ گیرے فدان نے شِنہوا کو حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ ترکیہ میں چینی زبان کے پروگرامز میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے جو عملی پہلوؤں اور حقیقی ثقافتی تعلقات دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔
کلاسیکی اور جدید چینی ادب کے مترجم فدان نے کہا کہ گزشتہ 40 سالوں میں چین کی اقتصادی ترقی نے طلبہ کی زندگیوں پر عملی اثر ڈالا ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک میں دیکھ سکتا ہوں، یہ ملازمت کے مواقع سے بھی جڑا ہوا ہے کیونکہ یہاں بہت زیادہ امکانات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے ترک طلبہ کے لئے چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اقتصادی اثر و رسوخ نے چینی زبان کی مہارت کو ایک اثاثہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ چینی زبان سیکھنے کی دلچسپی صرف ترکیہ تک محدود نہیں ہے۔ آج چین بہت سے ممالک کا پہلا یا دوسرا تجارتی شراکت دار ہے۔
چین کی اقتصادی کامیابی نے توجہ بڑھا دی ہے تاہم فدان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں چینی ادبی ورثے کی ذاتی اور فطری اہمیت بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی ادب انسانیت کے عظیم ادبیات میں سے ایک کے طور پر اپنی پہچان رکھتا ہے اور ترکیہ میں لوگ اس میں زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادب دیرپا ثقافتی روابط بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ذاتی طور پر میرا مقصد یہ ہے کہ یہ عظیم ثقافت اور ادب ترک عوام تک پہنچ سکے۔
ایک مترجم کے طور پر فدان چینی مصنفین اور ان کے کاموں کو ترک قارئین تک پہنچا رہے ہیں۔ ان کے حالیہ تراجم، جن میں ژانگ وی کی "ستمبر کی کہانی "شامل ہے، چین کے جدید ادبی ارتقا کے مختلف مراحل کی عکاسی کرتے ہیں۔
فدان نے کہا کہ یہ میرے لئے انتہائی اہم ہے۔ یہ تراجم اس لئے کئے جانے چاہئیں تاکہ باہمی تفہیم کو بڑھایا جا سکے۔


