ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کیلئے تمام رجسٹرڈ کاروباروں کو ایک ہفتے میں اپنا نظام ایف بی آر کیساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کردی۔
جاری نوٹیفکیشن میں مقررہ مدت کے اندر تعمیل لازمی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پوائنٹ آف سیلز مشین استعمال کرنیوالے تمام کاروباری یونٹس کو ایف بی آر کے مرکزی نظام سے جوڑا جائیگا، فیصلے کا اطلاق ہوٹلوں، گیسٹ ہائوسز، میرج ہالز اور مختلف کلبز پر بھی ہوگا جبکہ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ، کورئیر سروسز اور کارگو آپریٹرز کو بھی اس عمل کا پابند بنایا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق بیوٹی پارلرز، سلمنگ سنٹرز اور بیوٹی کلینکس کو لازمی طور پر ایف بی آر کیساتھ رجسٹریشن مکمل کرنا ہوگی، اسی طرح ہیئر ٹرانسپلانٹ مراکز، نجی کلینکس، ڈینٹل کلینکس اور پلاسٹک سرجنز کے کاروبار بھی نئے ٹیکس نظام کے تحت لائے جائینگے تاکہ ان کی آمدن کا ریکارڈ مرکزی ڈیٹا سے منسلک رہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ لیبارٹریز، ویٹرنری ڈاکٹرز، ڈائیگناسٹک اور ایکسرے سینٹرز، نجی اسپتال، پرائیویٹ کنسلٹنٹس اور دیگر ہیلتھ کیئر سروسز فراہم کرنے والے ادارے بھی اس پابندی کے دائرے میں آئیں گے، اسی طرح ہیلتھ کلبز، سوئمنگ پولز، فٹنس سینٹرز اور ملٹی پرپز کلبز کو بھی ٹیکس نظام سے جوڑنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق بڑے اور معروف کلبز بشمول کراچی جمخانہ، رائل پام، چناب کلب، اسلام آباد کلب اور لاہور جمخانہ کو بھی اس نظام میں شامل کیا جائے گا، علاوہ ازیں چارٹرڈ اکانٹنٹس فرمز اور کاسٹ و مینجمنٹ خدمات فراہم کرنیوالی کمپنیوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وہ تعلیمی ادارے جہاں ماہانہ فیس ایک ہزار روپے ہے، انہیں بھی ایف بی آر نظام سے منسلک ہونا ہوگا، انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 33کے تحت نظام سے وابستگی بنیادی شرط قرار دی گئی ہے، متعلقہ کاروباروں کو اب پوائنٹ آف سیلز مشین کی تنصیب لازمی کرنا ہوگی۔


