ماسکو (شِنہوا) ایک تجربہ کار روسی ٹریول گائیڈ دمیتری دوبرو لیوبوف، جو دو دہائیوں سے چینی زبان بول رہے ہیں، نے کہا کہ مجھے حال ہی میں بہت حیرانگی ہوئی جب ایک سیاحتی مقام پر ایک ریستوران کے متعدد ویٹرز اور عملے نے مجھے چینی تلفظ کی ادائیگی میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ جو چیز انہیں حیران کر گئی وہ صرف تجسس نہیں تھا بلکہ اس کی فوری نوعیت تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ ٹپ نہیں مانگ رہے تھے، وہ صرف درست الفاظ بولنا چاہتے تھے۔
یہ بے تابی بڑھ رہی ہے۔ اس موسم سرما، جب دریائے موسکاوا کے کناروں پر برف کی چادر جمی ہے، چین اور روس کے درمیان ویزا فری سفر کے باعث چینی سیاحتی گروپس کی مستقل آمد ہو رہی ہے۔ خاندان جو گرم جیکٹس پہنےہوئے ہیں، ریٹائرڈ لوگ تھرموسز پکڑے ہوئے ہیں، نوجوان جوڑے ریڈ سکوائر پر تصاویر کھینچنے کے لئے رک رہے ہیں۔ دوبرو لیوبوف نے کہا کہ کریملن کے قریب ایک مرتبہ انہوں نے چند منٹ کے دوران 20 سے زیادہ چھوٹے چینی سیاحتی گروپس کو گزرتے دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ ماسکو کی سڑکوں پر یہ منظر بے مثال ہے، ویزہ فری پالیسی کا اثر روزمرہ کی مختصر بات چیت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایک ویٹر چینی زبان میں سلام کہنے کی مشق کر رہا ہے، ایک سیاح محلے کے کیفے میں مقامی زندگی کا لطف اٹھا رہا ہے اور جب الفاظ آخرکار زبانوں کے پار سمجھ میں آ جاتے ہیں تو ایک مشترکہ قہقہہ گونجتا ہے۔ ویزا سے استثنیٰ نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کو کم کر دیا ہے۔ دوبرو لیوبوف کا ماننا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ عوام کے درمیان دوستی کے بندھن کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
ایک کیفے میں بیٹھے کیک کا ایک ٹکڑا ساتھ لئے چینی سیاح ژاؤ ژی وے نے ماسکو کے ریڈ سکوائر میں دوستوں کے ساتھ حال ہی میں کھینچی گئی تصاویر دیکھیں اور پہلی بار بھاری برف دیکھ کر بہت خوش ہوا۔
ژاؤ کے لئے ویزا فری سفر تازگی بھرا محسوس ہوا، حالانکہ وہ پہلے چار بار روس جا چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا روس کا پانچواں سفر ہے، لیکن پہلا ویزا فری سفر ہے۔ داخلہ بہت آسان تھا اور ہوائی اڈے پر چینی زبان کی سہولت نے اس عمل کو مزید ہموار بنا دیا۔


