منیلا (شِنہوا) فلپائن کے تمام جزائر پر نئے چینی سال کی رنگا رنگ تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے جس کے بارے میں بہت سے لوگ امید کر رہے ہیں کہ گھوڑے کا یہ سال خوش قسمتی اور خوشحالی لائے گا۔
تہوار کے دنوں میں منیلا کا تاریخی ضلع بائی نوندو، جو دنیا کے قدیم ترین چائنہ ٹاؤن کے طور پر جانا جاتا ہے، سرخ اور سنہری رنگوں کے سمندر میں بدل گیا ہے۔
سنہری جھالر سے مزین سرخ لالٹینیں خریداروں سے بھرے فٹ پاتھوں کے اوپر لہرا رہی ہیں جبکہ دکانیں تہواری روشنیوں اور خوش بختی کی سجاوٹ سے دمک رہی ہیں۔ بہت سے لوگ روایتی چینی لباس زیب تن کئے ہوئے ہیں، جس سے جشن کا مشترکہ احساس مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
چائنہ ٹاؤن کے مرکز میں شیر اور ڈریگن رقص تنگ گلیوں اور مصروف سڑکوں پر رواں رہتے ہیں۔ شوخ رنگ ملبوسات میں ملبوس فنکار ڈھول اور جھانجھ کی تھاپ پر اچھلتے اور گھومتے ہیں جبکہ تماشائی خوشی سے نعرے لگاتے اور اس منظر کو دیکھتے ہیں جب "شیر” مقامی دکانوں کے سامنے جھک کر آداب بجا لاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی رسم ہے جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ آنے والے سال میں خوش قسمتی کو دعوت دیتی ہے۔
یہ تقریبات صدیوں کے تبادلے سے بننے والے ایک ثقافتی سنگم کی عکاسی کرتی ہیں۔ سمندر نے ہمیشہ چینی اور فلپائنی برادریوں کو الگ کرنے کے بجائے جوڑا ہے جن کے پکوان، لسانی اور تجارتی تعلقات فلپائن کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔


