امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات سست روی کیساتھ جاری ہیں تاہم فریقین نے اسے امید افزا قرار دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے باوجود امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے مشرق وسطی میں دوسرے طیارہ بردار بحری بیڑے کی تعیناتی کی تیاری شروع کردی ہے۔
میڈیا کے مطابق جنگی بیڑے یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کیریئر سٹرائیک گروپ کو روانگی کیلئے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش (CVN-77)ایک نیوکلیئر طاقت سے چلنے والا سپر کیریئر ہے جو اس وقت ورجینیا کے ساحل کے قریب تربیتی مشقوں میں مصروف ہے۔
حکام کے مطابق تربیتی شیڈول کو مختصر کر کے آئندہ دو ہفتوں میں ممکنہ روانگی ممکن بنائی جا سکتی ہے، یہ نِمِٹز کلاس کا جدید ترین اور آخری طیارہ بردار بحری جہاز ہے جس نے 2023کے اوائل میں آٹھ ماہ پر مشتمل بڑی تعیناتی مکمل کی تھی۔
دریں اثناء فروری 2026تک اسے دوبارہ تیز رفتار تعیناتی کیلئے ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، ایک کیریئر سٹرائیک گروپ کو سمندر میں ایک مکمل جنگی شہر تصور کیا جاتا ہے جس میں ہزاروں اہلکار اور جدید ترین اسلحہ شامل ہوتا ہے، اگر یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش مشرق وسطی پہنچتا ہے تو وہ یو ایس ایس ابراہام لنکن (CVN-72)کیساتھ شامل ہوگا جو جنوری کے آخر میں بحیرہ عرب پہنچ چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک سال بعد پہلی بار ہوگا کہ دو امریکی سپر کیریئر بیک وقت خطے میں آپریشنل ہونگے جسے ایران کیلئے واضح عسکری پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب میں امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔


