سردیوں کی مدھم نیلی روشنی میں ڈھولوں کی ہم آہنگ تھاپ فضا میں گونج اٹھی۔ سیچھوان کے مصالحوں کی خوشبو نے بوداپست کے دسویں ضلع کے صنعتی ماحول کو رنگین اور جاندار منظر میں بدل دیا۔
گھوڑے کے سال نے صرف قمری کیلنڈر کی ایک تاریخ کے طور پر ہی ہنگری کے دارالحکومت میں اپنی رونقیں نہیں بکھیریں بلکہ یہ شاندار جشن کے طور پر تیزی سے یورپ کی شہری زندگی کے ماحول کا حصہ بن گیا ہے۔
مقامی رہائشی کارینا سزکس بوداپست کے چائنہ ٹاؤن اسپرنگ فیسٹیول ٹیمپل فیئر میں پہلی بار گئیں۔ ان کے لئے یہ ایک نہایت جذباتی اور پُرلطف تجربہ تھا۔ چینی اوپیرا کی جادُوئی دُھنوں نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (ہنگری زبان): کارینا سزکس، مقامی رہائشی
"میں اپنے دوست کے ساتھ آئی ہوں۔ یہاں پر یہ ہمارا پہلا سال ہے اور ہم یہاں آ کر بہت پرجوش ہیں۔ اب تک سب کچھ بہت پسند آیا۔ سب لوگ بہت مہربان ہیں۔ یہاں ہمیں ان روایتی سرگرمیوں کے تجربے کا موقع ملا جو ہمارے لئے واقعی حیران کن تھا۔ اگر میں درست سمجھی ہوں تو ہم نے شاید اوپیرا کے گلوکاروں کو بھی دیکھا۔ ان کی آوازیں بہت خوبصورت تھیں۔ تمام وقت میرے جسم میں سنسنی طاری رہی۔ یہ دل کو چھو لینے والا ایک تجربہ تھا۔”
رواں برس کی تقریبات 7 اور 8 فروری کو منعقد ہوئیں۔ سیچھوان اوپیرا کے ’آگ پھینکنے‘ والے ماہرین نے اپنا فن دکھایا۔ ’لمبے نل والے چائے دان‘ کے مسحورکن مظاہرہ بھی ہوا جس میں چائے کنگ فو جیسی مہارت کے ساتھ ڈالی جاتی ہے۔ یہ میلہ ہنگری کے بہت سے شہریوں کے لئے چین کے غیر مادی ثقافتی ورثے سے قریبی تعارف کا پہلا موقع تھا۔
چینی ثقافت کو محسوس کرنے کا یہ سفر کھانے کے اسٹالز تک بھی پہنچا۔ سیچھوان کے روایتی کھانوں کی خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ چھنگ دو کے دو ماہر شیفس انتھک محنت کرتے ہوئے مصالحے دار نوڈلز اور میٹھے موچی تیار کر رہے تھے ۔ دوسری طرف بھوک سے پریشان مقامی افراد کی قطار بڑھتی جارہی تھی ۔
متعدد شرکا جیسے فرینک اور ان کی بیٹی ایزابیلہ کے لئے یہ تہوار ایک پسندیدہ خاندانی روایت بن چکا ہے۔ ان کا یہاں پر یہ چوتھا سال ہے۔ وہ ہنگری کے ان خاندانوں کی نمائندگی کرتے ہیں جن کے لئے نیا چینی سال سردیوں کے موسم کی خاص اور اہم تقریبات میں شامل ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (ہنگری زبان): فرینک، مقامی رہائشی
"دراصل ہم یہاں تقریباً چوتھی بار آئے ہیں ۔ ہمیں ہر بار یہاں واپس آنا اچھا لگتا ہے۔ ماحول شاندار ہے۔ یہ جگہ اور یہاں کی مجموعی کیفیت دونوں ہمیں پسند ہیں۔ بچوں نے کچھ پرنٹنگ کی، عارضی ٹیٹو بنائے اور اب وہ ڈریگن سے متعلق سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ بنیادی طور پر ہم یہاں دستیاب ہر چیز آزما رہے ہیں۔ ہم سب کچھ دیکھنا اور تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (ہنگری زبان): ایزابیلہ، مقامی رہائشی
"میرے خیال میں ڈریگن رقص بہت خوبصورت ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ڈریگن سجے ہوئے اور رنگ برنگے ہوتے ہیں۔”
’ثقافت کی تلاش‘ کے عنوان سے قائم خیمے میں مہمانوں نے اپنے گرم کوٹ اتار کر روایتی لباس ’ہانفو‘ پہنا۔ خطاطی کے برش کے استعمال کی مشق کی اور روایتی چینی طب کے قدیم علوم کا عملی تجربہ حاصل کیا۔
ہنگری کی ثقافت و اختراعات کی وزارت کی ریاستی سیکرٹری انیتا کس ہیگی نے شِنہوا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں اس تقریب کی "برادری مضبوط کرنے کی صلاحیت” کو اجاگر کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (ہنگری زبان): انیتا کس ہیگی، ریاستی سیکرٹری، وزارت ثقافت و اختراعات، ہنگری
"اس تہوار کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ دونوں ممالک کی ثقافتوں کو قریب لانے اور برادری کے تعلقات مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ہنگری کے لوگ یہاں آ کر چینی ثقافت، چینی روایات اور کھانے پینے کی چیزوں کو قریب سے جان سکتے ہیں۔ یہ ایک منفرد تجربہ ہے اور میرے خیال میں بہار کا چینی تہوار اس کا شاندار موقع ہے۔ یہ جشن اس بات کی بہترین مثال ہے کہ مختلف برادریاں کس طرح اکٹھی ہو کر ایک خاص اور یادگار تجربہ شیئر کر سکتی ہیں۔”
ہنگری میں چین کے سفیر گونگ تاؤ نے کہا کہ اب زیادہ تر مقامی خاندان ڈمپلنگز اور شیر رقص جیسی چینی روایات کو اپنا رہے ہیں۔ اس وجہ سے بہار کا تہوار مختلف تہذیبوں کو جوڑنے والی ایک اہم کڑی بن گیا ہے۔
بوداپست سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
بوداپست میں چین کے بہار میلے کا رنگا رنگ جشن منایا گیا
شہری بڑی تعداد میں نئے چینی سال کے استقبال کے لئے جمع ہوئے
ڈھول، رقص اور ثقافتی سرگرمیوں سے فضا گونج اٹھی
سیچھوان اوپیرا اور لانگ اسپاؤٹ ٹی پاٹ شو نے توجہ حاصل کی
ہنگری کے شہریوں نے چین کےغیر مادی ثقافتی ورثے کو قریب سے دیکھا
کھانے کے اسٹالز پر سیچھوان اسٹریٹ فوڈ کی خوشبوئیں بکھر گئیں
بچے ڈریگن سرگرمیوں اور عارضی ٹیٹوز سے لطف اندوز ہوتے رہے
شرکا نے ہانفو لباس، خطاطی اور روایتی چینی طب کا عملی تجربہ حاصل کیا
تہوار نے دونوں ممالک کی ثقافتوں کو قریب لانے میں کردار ادا کیا
بہار کا تہوار مختلف تہذیبوں کو جوڑنے کا ذریعہ بن گیا


