سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ، 342ارب روپے 635 مقدمات میں بینک گارنٹیوں کی صورت میں منجمد ہیں جس سے ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے انقلابی اور تاریخی فیصلہ ہے جس سے اوورسیز پاکستانیوں کو جائیداد کی خرید و فروخت میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ہوگا، نئے نظام سے بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں اور مشنز میں آن لائن سیل ڈیڈ کی تکمیل ممکن ہوگی۔
انکا کہنا تھا کہ سندھ رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد اوورسیز پاکستانیوں کو رجسٹریشن دفاتر میں ذاتی حاضری سے استثنا حاصل ہوگا جبکہ نادرا سے منسلک ای رجسٹریشن نظام کے ذریعے بائیومیٹرک اور چہرے کی تصدیق ممکن ہوگی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ کی کاوشوں سے نہ صرف سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ پراپرٹی فراڈ کی روک تھام بھی ممکن ہوگی، ای سٹیمپنگ نظام کو سندھ کے اپنے آئی ٹی ادارے سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے سپرد کرنا صوبے کی ڈیجیٹل خودمختاری کی جانب اہم پیشرفت ہے۔
سینئر وزیر نے کہا کہ 5سالہ سروس معاہدہ 7ملین روپے ماہانہ جبکہ سالانہ 10فیصد اضافے کیساتھ ہوگا،ای سٹیمپنگ نظام سے ریونیو وصولی کا نظام بہتر ہوگا جبکہ موبائل ایپ، پیپر لیس سٹیمپ ڈیوٹی اور ٹو فیکٹر تصدیق جیسی جدید سہولیات سے شہریوں کو آسانیاں فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ میں جدید فروٹ اینڈ ویجیٹل مارکیٹ کے قیام سے زرعی معیشت کو تقویت ملے گی ،4.8ارب روپے کی لاگت سے جدید فروٹ اینڈ ویجیٹل مارکیٹ کا قیام زرعی معیشت کو مستحکم کریگا، منصوبے میں کسانوں اور تاجروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے بائونڈری وال، جدید ڈرینیج سسٹم، انتظامی بلاک، طبی سہولیات، بینکنگ سروسز اور گرین بیلٹ شامل ہونگے، کنزیومر کورٹس کو ٹریفک کورٹس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی کیلئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کابینہ نے سندھ ڈویلپمنٹ اینڈ مینٹی نینس آف انفرا اسٹرکچر سیس کے تنازع کے جامع تصفیے کی منظوری دی ہے جس کے تحت تسلیم شدہ واجبات کا 15فیصد 3مراحل میں ادا کیا جائیگا جبکہ باقی رقم 12مساوی سالانہ اقساط میں وصول کی جائیگی۔
انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم کے تحت ری ایکسپورٹ پر مکمل استثنا دیکر تجارت کو فروغ دیا جا رہا ہے، حکومت سندھ کے فیصلے کے تحت انڈس ڈیلٹا میں محفوظ مینگروز کے رقبے میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا جا رہا ہے ، ضلع سجاول کی 405,002 ایکڑ انٹر ٹائیڈل زمین کو پروٹیکٹڈ فاریسٹ قرار دیا گیا ہے جو سمندری طوفانوں اور مدوجزر کی لہروں کے خلاف قدرتی ڈھال ثابت ہوگی، عالمی معیار کے مطابق 25 فیصد جنگلاتی رقبہ ہونا چاہئے جبکہ سندھ میں اسوقت صرف 10فیصد رقبہ محفوظ یا ریزروڈ فاریسٹ ہے، فیصلے سے انڈس ڈیلٹا میں پہلے سے محفوظ 566,298 ہیکٹر رقبے میں مزید اضافہ ہوگا۔


