جمعہ, فروری 6, 2026
ہومپاکستانچین میں پاکستانی طلبہ کا تعلیم اور ثقافتی زندگی کے ساتھ نئے...

چین میں پاکستانی طلبہ کا تعلیم اور ثقافتی زندگی کے ساتھ نئے چینی سال کا جشن

گوئی یانگ (شِنہوا) سہراب خان، جو چین کے جنوب مغربی صوبہ گوئی ژو کی گوئی ژو یونیورسٹی میں فارمیسی کا انڈرگریجویٹ طالب علم ہے، کے لئے پچھلے سال کا سب سے یادگار لمحہ لیبارٹری میں رات گئے آنے کا تھا۔

اپنے کرومیٹو گرافی کے تجربے کو بہتر بنانے کے عزم کے ساتھ وہ رات دیر تک لیبارٹری میں ٹھہرے رہے۔ انہوں نے طریقہ کار کو چار مرتبہ اس وقت تک دہرایا جب تک وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ بالاآخر کامیاب ہو گیا تو اس کا ہر منٹ قیمتی ثابت ہوا۔

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سہراب نے چین میں تعلیم حاصل کرنے والے اپنے ہائی سکول کے سینئر طلبہ سے متاثر ہو کر ستمبر 2024 میں گوئی ژو یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں چین کے تعلیمی وسائل اور ثقافت بالخصوص فارمیسی لیبارٹری کی جدید سہولیات اور وسائل نے اپنی طرف راغب کیا۔

ان کی تعلیمی محنت اس وقت رنگ لے آئی، جب گزشتہ سمسٹر میں متعدد کورسز میں انہوں نے 85 سے زائد نمبر حاصل کئے اور چینی زبان کی مہارت کے امتحان ایچ ایس کے لیول 3 میں کامیاب ہوئے۔

چین میں سہراب کی زندگی میں تعلیم سے ہٹ کر بھی سرگرمیاں شامل ہیں۔ وہ تعطیلات کے دوران اپنے پاکستانی دوستوں سے ملنے چین کے مختلف شہروں میں گئے، جن میں چھونگ چھنگ، شی آن اور گوانگ ژو شامل ہیں، جہاں چینی زبان میں ان کی مہارت نے انہیں ثقافتی طور پر زیادہ گہرائی سے گھلنے ملنے کا موقع فراہم کیا۔

نئے سال کی تعطیلات کے دوران انہوں نے رونگ جیانگ کاؤنٹی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پر جوش شائقین کے ساتھ مل کر متحرک ویلیج سپر لیگ کو دیکھا، جو نچلی سطح کا ایک معروف ٹورنامنٹ ہے۔

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں یہاں کی زندگی کا عادی ہو گیا ہوں، اگرچہ سرد موسم اور تیز مصالحے والے کھانوں سے ابھی ہم آہنگ ہو رہا ہوں۔

اس سال وہ سماجی رابطے کے اکاؤنٹس چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن پر وہ پاکستانی ناظرین کے لئے انگریزی اور اردو زبان میں چین میں اپنے معمولات زندگی اور مشاہدات شیئر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں حقیقی چین دکھانا چاہتا ہوں، بالخصوص یہاں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی تیز رفتار ترقی دکھانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز کو چینی شہریوں کو پاکستانی ثقافت سے متعارف کرانے کے لئے استعمال کریں گے۔

کیمپس کی ایک اور لیبارٹری میں مائیکرو بائیولوجی میں زیر تعلیم دوسرے سال کی پاکستانی گریجویٹ طالبہ ثناء گل نے تحقیقی سہولیات تک بلا رکاوٹ رسائی کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ یہ لیبارٹری 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے، میں ہر 12 گھنٹوں کے دوران اپنے تجربے کی پیشرفت کی نگرانی کر سکتی ہوں۔ ان کی موجودہ تحقیق چینی ساؤرکراوٹ کی مائیکروبیل خمیر کاری پر مرکوز ہے، جس کا مقصد اس روایتی خمیر شدہ خوراک کے ذائقے کو بہتر بنانا ہے۔

لیبارٹری کے علاوہ ثناء نے چین میں روزمرہ زندگی کی سہولیات کو اپنا لیا ہے، جن میں کیو آر کوڈ کے ذریعے کرائے پر سائیکل حاصل کرنا ہو، ٹیکسی منگوانی ہو یا آن لائن راشن منگوانا ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ہر چیز کی بہت سہولت ہے اور لوگ بہت دوستانہ ہیں۔ میں رات کو اکیلے باہر جاتے ہوئے بھی خود کو بالکل محفوظ سمجھتی ہوں۔

پیر کی دوپہر، گوئی ژو یونیورسٹی کے کالج آف انٹرنیشنل ایجوکیشن نے ایک پروگرام کا انعقاد کیا، جہاں بین الاقوامی طلبہ نے ڈمپلنگز بنانا اور بہار کے تہوار کے کلمات لکھنا سیکھا اور یوں وہ 17 فروری سے شروع ہونے والے نئے چینی سال کے پرجوش ماحول میں ڈوب گئے۔

ثناء نے یہاں بہار کے تہوار کے حوالے سے ثقافتی تجربہ حاصل کیا۔ 2025 میں ثناء کے شوہر نے پانچ ماہ تک چین میں ان کے ساتھ قیام کیا اور وہ بھی اسی طرح متاثر ہوئے۔ انہوں نے یہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے ثناء کی حوصلہ افزائی کی۔ ثناء بہار میلے کی تعطیلات کی تیاری کیمپس میں ہی کر رہی ہیں اور اپنی تحقیق اور مقالے پر توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ آئندہ سمسٹر میں ٹھوس تحقیقی نتائج حاصل کریں اور اعلیٰ معیار کے مقالے شائع کریں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!