چین میں دلدلی علاقوں کے تحفظ کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے
چنگہائی جھیل چین میں اندرونِ ملک نمکین پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ یہاں مختلف جدید ٹیکنالوجی آلات کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کا جدید طریقہ اپنایا گیا ہے۔
سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ اور ڈرون سے نگرانی کے ذریعے علاقے میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا حامل ماحولیاتی تحفظ کا نظام قائم کیا گیا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کی جاری کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اب جھیل میں متعدد جانوروں کی نسلوں کی بحالی دیکھی گئی ہے۔
جھیل میں ایک منفرد نسل نیکڈ کارپ کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کے بعد اس کی آبادی 49 گنا اضافہ ہوا۔
چنگہائی جھیل کے حوض میں پرزوالسکی ہرن کی تعداد سال 2004 میں 257 تھی جو سال 2024 تک 3 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
مقامی آبی پرندوں کی آبادی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ان کی تعداد اب 6 لاکھ 6 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
چین میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل پویانگ کے دلدلی علاقے میں، رینجر یُو چی وین ایک ڈرون کی مدد سے نایاب ملُو ہرن کی نگرانی کرتے ہیں۔
سال 2018 میں چین نے 47 میلُو ہرن پویانگ جھیل کے اردگرد کےجنگلی علاقے میں آزاد چھوڑ دئیے۔ ہرن کی یہ قسم تقریباً ایک ہزار سال قبل ناپید ہو گئی تھی۔
اب جھیل کے اردگرد میلُو ہرن کی تعداد تقریباً 80 ہو گئی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ (چینی): یو چی وین، رینجر
"ستمبر 2025 کے بعد سے میں نے میلُو ہرن کے ریوڑ میں دو نئے بچوں کو دیکھا جبکہ دسمبر میں ایک اور کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کر لیا۔ کل ملا کر میں نے میلُو ہرن کے تین نئے بچوں کو ریکارڈ کیا۔”
نیشنل فارسٹری اینڈ گراس لینڈ ایڈمنسٹریشن کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2012 سے چین نے دلدلی علاقوں کی بحالی کے 3800 سے زائد منصوبے شروع کئے جن کے نتیجے میں دس لاکھ ہیکٹر سے زائد حساس دلدلی علاقوں میں آبی حیات کو نئی زندگی ملی۔
بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
چین جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے دلدلی علاقوں کا تحفظ یقینی بنا رہا ہے
چنگہائی جھیل میں ڈرون اور سیٹلائٹ نگرانی کے ذریعے ماحولیاتی نظام محفوظ ہوا
نیکڈ کارپ کی منفرد نسل کی آبادی میں 49 گنا اضافہ دیکھا گیا
پرزوالسکی ہرن سال 2004 میں 257 تھے، اب 3 ہزار سے تجاوز کر گئے ہیں
مقامی آبی پرندوں کی آبادی چھ لاکھ چھ ہزار تک پہنچ گئی
پویانگ جھیل میں رینجر یو چی وین میلُو ہرن کی نگرانی کر رہے ہیں
سال 2018 میں 47 میلُو ہرن جنگلی ماحول میں دوبارہ چھوڑے گئے
اب میلُو ہرن کی تعداد تقریباً 80 ہو گئی ہے
دلدلی علاقوں کی بحالی کے 3800 سے زائد منصوبے 14 برس میں مکمل ہوئے
10 لاکھ ہیکٹر حساس علاقے میں نایاب آبی حیات کو نئی زندگی ملی


