اقوام متحدہ (شِنہوا) ایک چینی مندوب نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے مشترکہ عالمی کوششوں کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے پیچیدہ خطرات سنگین چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو ایک مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور کو برقرار رکھنا چاہیے اور دہشت گردی ہرگز برداشت نہ کرنے کی پالیسی رکھنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مضبوط کرنے کے لئے اتحاد اور تعاون کو مستحکم کرنا چاہیے اور منتخب نوعیت کے انسداد دہشت گردی اقدامات اور دوہرے معیار کی پالیسیوں کی سخت مخالفت کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چین نے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد قوتوں کے خاتمے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹھوس اور موثر اقدامات کریں تاکہ ملک کو دوبارہ دہشت گردوں کا مرکز بننے سے روکا جاسکے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ شام میں سلامتی کی صورتحال اب بھی نازک ہے اور انسداد دہشت گردی کا کام انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کو شام کی سرزمین استعمال کرنے سے روکنا ضروری ہے تاکہ وہ دیگر ممالک کی سلامتی کو خطرے میں نہ ڈال سکیں۔
انہوں نے کہا کہ شام کی عبوری حکومت کو چاہیے کہ وہ انسداد دہشت گردی کی اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا کرے اور داعش، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل تمام دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ڈٹ کر کارروائی کرے۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کی ذیلی تنظیم مجید بریگیڈ نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیاں کی ہیں، جس سے عام شہریوں کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مضبوطی کے ساتھ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت کرے اور سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو جلد از جلد پابندیوں کی اپنی فہرست میں شامل کرے۔
انہوں نے کہا کہ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھنے اور ایک پائیدار امن اور عالمی سلامتی کی دنیا کی تعمیر میں مزید کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔


