جمعہ, فروری 6, 2026
ہومپاکستانصدر مملکت کا حق خود ارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی حمایت...

صدر مملکت کا حق خود ارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

صدر مملکت آصف زرداری نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا پر قدغنیں، کشمیری قیادت کی گرفتاریاں، آبادی تناسب میں تبدیلی کشمیری عوام کو انہی کی سرزمین میں کمزور کرنے کے مترادف ہیں، جموں و کشمیر کا تنازعہ حل نہ ہونے تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

یوم یکجہتی کشمیر پر جاری بیان میں صدر زرداری نے کہا کہ کشمیری عوام تقریبا 8دہائیوں سے غیرقانونی بھارتی قبضے کے خلاف ڈٹے اور قربانیاں دے رہے ہیں، 1989میں کشمیری عوام کی تاریخی جدوجہد کے بعد شہید بینظیر بھٹو نے اس دن کو باقاعدہ منانے کا آغاز کیا تھا اور یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کے عزم، حوصلے اور ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال عالمی ضمیر کیلئے شدید تشویش کا باعث ہے، 5اگست 2019ء کے غیرقانونی و یکطرفہ اقدامات کے بعد بھارت انتظامی اور قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنے قبضے کو مضبوط کرنے کیلئے کوششیں تیز کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا پر قدغنیں، کشمیری قیادت کی گرفتاریاں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششیں کشمیری عوام کو انہی کی سرزمین میں کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں، حالیہ عالمی رپورٹس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے حراستی اقدامات اور اجتماعی سزائوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام کی طرف سے گھروں کی مسماری اور ڈیجیٹل آزادیوں پر پابندیوں کے باعث ہزاروں سوشل میڈیا اکائونٹس کی بندش زمینی حقائق چھپانے کی کوششیں ہیں، مقبوضہ کشمیر میں مساجد اور مسجد انتظامیہ کی حالیہ پروفائلنگ دانستہ دباؤ کی کارروائیاں ہیں جن کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کے مذہبی حقوق میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات مذہبی امتیاز کے وسیع تر سلسلے کا حصہ ہیں، جبکہ کشمیری عوام کو بلا خوف و امتیاز اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مئی 2025ء میں بھارت کی جانب سے کی گئی خطرناک فوجی کشیدگی اس امر کی یاد دہانی ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کا بنیادی تنازعہ حل نہیں ہوتا۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ محض تشویش کے اظہار تک محدود نہ رہے بلکہ بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے مبصرین کو بلا رکاوٹ رسائی دینے اور کشمیری عوام کو ان کا وعدہ شدہ حقِ خود ارادیت دینے پر آمادہ کرے۔

صدر مملکت نے کہا کہ آزادانہ و غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کے حق حاصل نہ کر لینے تک پاکستان ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا ۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!