جمعہ, جنوری 30, 2026
ہومانٹرنیشنلاختراع اور تعاون کو فروغ دینے کے لئے برسلز میں چین-یورپ یوتھ...

اختراع اور تعاون کو فروغ دینے کے لئے برسلز میں چین-یورپ یوتھ مکالمے کا انعقاد

برسلز (شِنہوا) برسلز میں ’’مل کر مستقبل کی تعمیر: چین-یورپ نوجوانوں کے تبادلے اور مکالمے‘‘ کے عنوان سے تبادلے کا ایک پروگرام منعقد ہوا، جس میں تکنیکی اختراع اور نو جوانوں کی کاروباری صلاحیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔

پروگرام میں یورپی کمیشن، یورپی پارلیمنٹ، یورپی یونین کے لئے سفارتی مشنز، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) اور کثیرالقومی کمپنیوں کے تقریباً 60 نمائندوں نے شرکت کی۔

یورپین کنفیڈریشن برائے آزاد تجارتی یونینز (سی ای ایس آئی) کے نوجوان نمائندے انتونیلو پیترنگیلی نے کہا کہ یورپی اور چینی جامعات نے تعلیم اور تربیت کے شعبوں میں قریبی شراکت داری قائم کی ہے۔ طلبہ کے سالانہ تبادلہ پروگراموں سے علم، مہارت اور کام کرنے کے بہترین عملی طریقہ کار کو بانٹنے کو فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو طویل المدتی فوائد حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے سیکھنا چاہیے تاکہ سائنسی تحقیق اور اختراع کے مشترکہ مراکز قائم کئے جا سکیں۔

ینگ یورپین لیڈر شپ کی ڈائریکٹر آپریشنز نکولے ریٹا نپولی نے کہا کہ تکنیکی اختراع اور نظم ونسق میں چین اور یورپ اپنی اپنی طاقت رکھتے ہیں۔ جہاں چین نے تکنیکی ترقی اور صنعتی اطلاق میں تیز رفتار پیش رفت دیکھی ہے، وہیں یورپی یونین نے مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں کے لئے ضابطہ کاری کے فریم ورک کی تلاش میں قیادت کی ہے، جو عالمی حکمرانی کے مباحثوں پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ انہوں نے باہم سیکھنے اور ایک دوسرے کے فوائد سے استفادہ کرتے ہوئے مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

یورپی یونین کے لئے چائنہ چیمبر آف کامرس کی ڈائریکٹر برائے مواصلات اور تحقیق لیانگ لین لین نے کہا کہ جیسے جیسے چین یورپی ممالک کے لئے اپنی یکطرفہ ویزا فری پالیسی کو وسعت دیتا جا رہا ہے، نوجوان صلاحیتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تبادلے کے لئے وسیع امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ زیادہ آسان اور سہولت فراہم کرنے والے عملے کے تبادلے اور پلیٹ فارمز نوجوانوں اور جدت کے وسائل کو موثر طریقے سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

یونی ٹری روبوٹکس کے اوورسیز وائس جنرل منیجر ژانگ من نے یورپی یونین کو ہائی ٹیک اداروں کے لئے انتہائی موثر اور امکانات سے بھرپور مارکیٹ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں پیداوار، خدمات اور گھریلو کاموں میں انسان نما روبوٹ کی بڑھتی ہوئی طلب چینی کمپنیوں کو ترغیب دے رہی ہے کہ وہ یورپی صارفین کے مخصوص حالات کے مطابق مصنوعات کو بہتر بنائیں۔ یونی ٹری روبوٹکس کا مقصد یورپ کے مختلف شعبوں کے ساتھ قریبی مارکیٹ انضمام اور بنیادی سطح پر تبادلوں کے ذریعے تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!