بیجنگ (شِنہوا) چین کے ٹیلی مواصلات کے شعبے نے 2025 کے دوران اپنی مستحکم ترقی کو برقرار رکھا ہے۔ ملک نے 14 ویں 5 سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران مقرر کردہ 5 جی اور گیگابٹ آپٹیکل نیٹ ورک انفراسٹرکچر کے ترقیاتی اہداف کو کامیابی سے عبور کر لیا ہے۔
وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق 2025 کے اختتام تک چین میں 5 جی بیس سٹیشنز کی تعداد 48 لاکھ 38 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب ہر 10 ہزار افراد کے لئے 5 جی کے 34.4 بیس سٹیشنز موجود ہیں جو کہ قومی منصوبہ بندی کے ہدف سے 8.4 یونٹ زائد ہے۔
گزشتہ سال کی قیمتوں کے حساب سے اس شعبے کے مجموعی کاروباری حجم میں گزشتہ سال کی نسبت 9.1 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹیلی مواصلات کی کاروباری آمدنی مجموعی طور پر 17.5 کھرب یوآن (تقریباً 250.8 ارب امریکی ڈالر) رہی جو کہ 0.7 فیصد کا اضافہ ہے۔
کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بگ ڈیٹا، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) اور ڈیٹا سنٹرز جیسے ابھرتے ہوئے کاروباروں کا مجموعی آمدنی میں حصہ 25.7 فیصد رہا۔
انفراسٹرکچر کے حوالے سے چین نے ہر کاؤنٹی میں گیگابٹ آپٹیکل نیٹ ورک تک رسائی حاصل کر لی ہے جبکہ تمام قصبوں اور 95 فیصد سے زائد انتظامی دیہاتوں میں 5 جی کوریج فراہم کر دی گئی ہے۔
2025 کے اختتام تک 5 جی-اے (5 جی-ایڈوانسڈ) سروس کی کوریج 330 سے زائد شہروں تک پھیل گئی۔ ملک بھر میں آپٹیکل فائبر کیبل نیٹ ورک کی مجموعی لمبائی 7 کروڑ 49 لاکھ 90 ہزار کلومیٹر تک پہنچ گئی جبکہ 3 بڑے ٹیلی کام آپریٹرز کے فراہم کردہ ڈیٹا سنٹر ریکس کی تعداد 9 لاکھ 38 ہزار تک پہنچ گئی۔


