جمعہ, جنوری 30, 2026
ہومپاکستانبورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں، پاکستان

بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں، پاکستان

دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں، اسے ابراہم معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے، پاکستان کا معاہدے سے تعلق ہے نہ ہی اس کا حصہ بنے گا، بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ خلوص نیت سے کیا، مقصد جنگ بندی مستحکم بنانا، غزہ کی تعمیر نو میں معاونت اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت پر مبنی دیرپا امن کا قیام ہے، ایران بارے جج کے ریمارکس ذاتی رائے ہے، پاکستان ہمیشہ پر امن طریقے سے مسائل کے حل کا خواہاں ہے۔

جمعرات کو صحافیوں کو ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ صدر مملکت متحدہ عرب امارات کے دورے پر ہیں، آصف زرداری کا دورہ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ تعلقات کا عکاس ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ڈیوس کا دورہ کیا، جہاں ان کی متعدد عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں ہوئیں، انہوں نے واپسی پر ابوظہبی میں سٹاپ اوور کیا اور اتصالات اور پی ٹی سی ایل کے صدر سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں جن میں دوطرفہ تجارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ ڈی آئی خان حملے میں افغان حملہ آور کی شمولیت ایک پیٹرن ہے، اصل میں افغان نیشنلز پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں، ڈی آئی خان حملے کا معاملہ دوطرفہ اور دیگر پلیٹ فارمز پر اٹھایا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا پاکستان کا داخلی معاملہ ہے، جج افضل مجوکہ کے ایران سے متعلق ریمارکس ذاتی رائے ہے، ایران سے متعلق پاکستان کا ایسا کوئی موقف نہیں ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے غزہ بورڈ آف پیس میں خلوص نیت سے شمولیت اختیار کی، پاکستان سمیت 7دیگر اہم مسلم ممالک سعودی عرب، مصر، اردن، یو اے ای، انڈونیشیا اور قطر بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم بنانا، غزہ کی تعمیر نو میں معاونت اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت پر مبنی دیرپا امن کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس سے متعلق ابراہیم اکارڈ کے الزامات بے بنیاد ہیں، بورڈ کا ابراہیم اکارڈ سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ بنے گانہ ہی ہم نے عالمی استحکام فورس میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے جس کا کا دارالحکومت القدس الشریف ہونا چاہئے، ہم بورڈ آف پیس کے فریم ورک پر عملدرآمد کیلئے پرامید ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام گزشتہ دو برس سے شدید تباہی اور انسانی بحران کا شکار ہیں، اقوام متحدہ کی کوششیں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکام رہی ہیں، بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ معاون پلیٹ فارم ہے، بورڈ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کیساتھ رابطے میں رہتا ہے، بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے پر تبصرہ نہیں کریں گے۔

ترجمان نے ایران کے حوالے سے کہا کہ پاکستان ہمیشہ پر امن طریقے سے مسائل کے حل کی بات کرتا ہے، ہم طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کے حق میں نہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ امن بحال ہو گا۔

ترجمان نے بتایا کہ اسی ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے دو مرتبہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں ایران اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے جس کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، دونوں ملکوں کے درمیان ریلوے منصوبے پر فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم مجوزہ مفاہمتی یاداشتوں کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

ترجمان نے امریکہ کی جانب سے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر کیلئے جاری ہونیوالی ٹریول ایڈوائزری کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات اچھے ہیں، امریکہ نے بعض پہلے سے جاری ٹریول ایڈوائزریز واپس بھی لے لی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!