عمان (شِنہوا) اردن کے اقتصادی ماہرین نے چین کی اقتصادی کارکردگی کے بارے میں مثبت توقعات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے 2025 کی شرح نمو کے نتائج کو اس بات کا ثبوت قرار دیا ہے کہ چین کی معیشت مضبوط لچک رکھتی ہے اور اندرونی و بیرونی دباؤ کے موثر انتظام کے ساتھ متوازن ترقی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
چین کے قومی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی جی ڈی پی ریکارڈ 1401.9 کھرب یوآن (تقریباً 201.6 کھرب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ ہے اور حکومت کے مقررہ اہداف کو پورا کرتا ہے۔
اردنی ماہرین نے مزید کہا کہ یہ نتائج چین کی طرف سے ناموافق حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں سست رفتار معاشی ترقی، مالیاتی سختیاں اور سیاسی و جغرافیائی کشیدگیاں بھی شامل ہے۔
یونیورسٹی آف اردن میں معاشیات کے پروفیسر رعد التال نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ معاشی ترغیبات دئیے بغیر معاشی اہداف حاصل کرنا انتہائی پرخطر ماحول میں موثر معاشی انتظام کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار اعلیٰ درجے کی لچک اور ترقی کے متنوع محرکات کی عکاسی کرتےہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ توسیع صرف روایتی سرمایہ کاری پر انحصار کرنے کے بجائے ساختی اصلاحات کے ساتھ حاصل کی گئی ہے۔
معاشی تجزیہ کار منیر دیا نے کہا کہ چین نے چیلنجز کے باوجود ترقی کی رفتار برقرار رکھی ہے اور اسے اس ضمن میں پیداوار، برآمدات اور بنیادی ڈھانچے نے معاونت فراہم کی ہے۔ انہوں نے 10 کھرب ڈالر کے ریکارڈ تجارتی اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ ہائی ٹیک صنعتوں، گاڑیوں کی صنعت اور قابل تجدید توانائی کے آلات میں ترقی کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس نے محصولات اورسیاسی و جغرافیائی دباؤکے اثرات کو کم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
اردن کی بزنس مین ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل طارق حجازی نے کہا کہ نتائج اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ چین نے دو پانچ سالہ منصوبوں کے دوران مقدار اور معیار دونوں کی ترقی میں توازن قائم کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی سازوں نے جدت، پیداواری صلاحیت اور زیادہ قدر افزا پیداوار پر توجہ مرکوز کی ہے، جس کے ذریعے ایک زیادہ پائیدار ترقیاتی ماڈل کی طرف پیش رفت کی جا رہی ہے۔


