جمعہ, جنوری 30, 2026
ہومتازہ ترینچین میں جدت اور پیداوار کی معاونت کے لئے 2025 میں...

چین میں جدت اور پیداوار کی معاونت کے لئے 2025 میں ٹیکس اور فیس میں 28 کھرب یوآن کی کمی

بیجنگ (شِنہوا) چین میں سائنس و ٹیکنالوجی کی اختراع اور مینوفیکچرنگ کی معاونت کے لئے ٹیکس اور فیس میں دی گئی چھوٹ کے ساتھ ساتھ ٹیکس ریفنڈز کی مجموعی مالیت گزشتہ سال 28 کھرب یوآن (تقریباً 401.4 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی۔

ریاستی ٹیکس انتظامیہ کے سربراہ ہو جنگ لین نے قومی ٹیکسیشن ورک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان مراعات نے نئی نوعیت کی پیداواری قوتوں کی ترقی میں نمایاں طور پر سہولت فراہم کی ہے۔

کانفرنس میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مستحکم اقتصادی نمو اور دیگر مثبت عوامل کے باعث 2025 میں ملک کی ٹیکس اور فیس کی مجموعی آمدنی 331 کھرب یوآن تک پہنچ گئی۔ چین کی جی ڈی پی 2025 میں سالانہ ہدف کے مطابق گزشتہ سالانہ بنیاد پر 5 فیصد بڑھی۔

تفصیل کے مطابق برآمدی ٹیکس ریبیٹ کی کٹوتی سے قبل ٹیکس آمدنی گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ 178 کھرب یوآن تک پہنچ گئی۔ سماجی بیمہ پریمیمز میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 91 کھرب یوآن رہے۔ غیر ٹیکس آمدنی کا مجموعی حجم 56 کھرب یوآن رہا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!