پاکستان نے قانون کی حکمرانی امن، انصاف اور اجتماعی سلامتی کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج عالمی قانون کے احترام کو کڑی آزمائش کا سامنا ہے، یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے عالمی قوانین پر اعتماد کو شدید مجروح کیا ہے، قانون طاقت کے آگے جھکا تو دنیا عدم استحکام کی لپیٹ میں آجائے گی۔
سلامتی کونسل کے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے مستقل پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جارحیت کا ارتکاب کیا، پاکستان نے صورتحال میں حق دفاع کو ذمہ دارانہ، محتاط و متناسب انداز میں استعمال کیا اور واضح پیغام دیا کہ جبر کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی امن، انصاف اور اجتماعی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے، تاہم آج بین الاقوامی قانون کے احترام کو کڑی آزمائش کا سامنا ہے، یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے عالمی قوانین پر اعتماد کو شدید مجروح کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر قانون طاقت یا وقتی مصلحت کے آگے جھک جائے تو نہ صرف عدم استحکام گہرا ہوگا بلکہ تنازعات مزید شدت اختیار کریں گے اور پرامن بقائے باہمی خطرے میں پڑ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانے کی کوششیں اجتماعی سلامتی کو کمزور کر رہی ہیں، پاکستان خود بھی ایسی خلاف ورزیوں کا سامنا کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے مابین تعلقات کا واحد معیار عالمی قانون کا احترام ہونا چاہئے کیونکہ اسی میں عالمی امن و استحکام کی ضمانت پوشیدہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جبر یا استثنیٰ سے جنم لینے والا کوئی بھی نیا معمول قابل قبول نہیں ہو سکتا ہے۔
سلامتی کونسل موثر میکانزم واضع کرے اور اپنی قراردادوں کے نفاذ کی منظم نگرانی کرائے۔


