منگل, جنوری 27, 2026
ہومپاکستانسپریم کورٹ، سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم، سرکاری ملازم کی ترقی پہلی...

سپریم کورٹ، سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم، سرکاری ملازم کی ترقی پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے بحال

سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین پروموشن تاخیر کیس میں پنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سرکاری ملازم کی پروموشن 21 جنوری 2012سے موثر قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ پروموشن سرکاری ملازمین کا بنیادی حق ہے، انتظامی غفلت یا تاخیر کی سزا ملازم کو نہیں دی جاسکتی۔

سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کی جانب سے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملازم فخر مجید نے استدعاء کی تھی کہ اس کی ترقی پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے بحال کی جائے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اہل سرکاری ملازم کو پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے انعقاد کے دن سے پروموشن کا حق حاصل ہے، انتظامی غفلت یا تاخیر کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے کہا کہ اہل سرکاری ملازم کو بروقت پروموشن کیلئے محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی میں شامل کیا جانا لازم ہے، پروموشن میں تاخیر یا لاپرواہی ملازم کے حق کو متاثر نہیں کرے گی۔

سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ وہ بروقت پروموشن کے عمل کو یقینی بنائیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!