فلپائن میں کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ حادثے میں 28 افراد لاپتہ ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق حادثہ جنوبی صوبے باسیلان کے قریب اسوقت پیش آیا جب مسافر بردار جہاز ایم وی ٹرشا کرسٹن 3 بندرگاہی شہر زامبوانگا سے روانہ ہو کر جنوبی سولو کے جزیرے جولو کی جانب جا رہا تھا۔
فلپائنی کوسٹ گارڈ کے مطابق جہاز میں ریکارڈ کے مطابق 332مسافر اور 27عملے کے افراد سوار تھے، کشتی نے رات 1:50 بجے مدد کیلئے پیغام بھیجا جو زامبوانگا سٹی سے روانگی کے تقریباً چار گھنٹے بعد تھا، کشتی اچھے موسم میں باسیلان صوبے کے جزیرہ نما گاں بالک بالک سے تقریباً 2 کلومیٹر کے فاصلے پر ڈوب گئی جہاں ابتدائی طور پر کئی زندہ بچ جانیوالوں کو منتقل کیا گیا ہے۔
جنوبی منڈانا ڈسٹرکٹ کے کوسٹ گارڈ کمانڈر رومیل دوا نے بتایا کہ اب تک 316 افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ 15افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور 28 افراد تاحال لاپتہ ہیں، کوسٹ گارڈ کا ایک طیارہ بھی امدادی کارروائی میں مدد کیلئے پہنچ چکا ہے جبکہ نیوی اور ایئر فورس نے بھی اپنے وسائل بھیج دئیے ہیں، جن افراد کو بچایا گیا ہے اور جنہیں طبی امداد کی ضرورت تھی انہیں دارالحکومت اسابیلا کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
طبی عملے کی رکن رونالین پیریز نے کہا کہ اصل مسئلہ مریضوں کی بڑی تعداد ہے جو یہاں آ رہی ہے اس وقت ہمارے پاس عملہ کم ہے۔
باسیلان کے گورنر مجیو ہاتامان نے فیس بک پر اسابیلا بندرگاہ کے مناظر کی ویڈیوز شیئر کیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زندہ بچ جانیوالوں کو کشتیوں سے اتارا جا رہا ہے، کچھ کو تھرمل کمبل اوڑھائے گئے ہیں جبکہ کچھ کو سٹریچر پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
گورنر ہاتامان کے مطابق زیادہ تر متاثرین کی حالت بہتر ہے تاہم کئی معمر مسافروں کو فوری طبی امداد کی ضرورت پڑی، ریسکیو آپریشن کے دوران حکام مسافروں کی فہرست کی دوبارہ جانچ کر رہے ہیں۔
کوسٹ گارڈ کمانڈر رومیل دوا نے کہا کہ فیری کے ڈوبنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی، کوسٹ گارڈ نے روانگی سے قبل جہاز کو کلیئر کیا تھا اور زیادہ بوجھ ہونے کے کوئی آثار نہیں تھے۔


