منگل, جنوری 27, 2026
ہومانٹرنیشنلٹرمپ بورڈ آف پیس میں مسئلہ کشمیر بھی لا سکتے ہیں، بھارت...

ٹرمپ بورڈ آف پیس میں مسئلہ کشمیر بھی لا سکتے ہیں، بھارت کو خدشہ

غیر ملکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کو خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بورڈ آف پیس میں مسئلہ کشمیر کو بھی لا سکتے ہیں جس سے بھارت کی سفارتی حکمت عملی پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے غزہ کی تعمیر نو کیلئے قائم بورڈ آف پیس میں بھارت کو شمولیت کی دعوت دی ہے تاہم بھارت کی جانب سے تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا، بورڈ آف پیس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور عبوری حکومت کی نگرانی ہے۔

بورڈ میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہو چکے ہیں جبکہ 59ممالک اس پر دستخط کر چکے ہیں۔

ڈیووس میں ہونیوالی تقریب میں 19ممالک نے شرکت کی تا ہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی شریک نہیں ہوئے۔

میڈیا کے مطابق بھارتی فیصلے سے مغربی ایشیاء میں استحکام اور امریکا سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ مستقبل میں بورڈ آف پیس میں مسئلہ کشمیر کو بھی لا سکتے ہیں۔

تقریب سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ماڈل غزہ کے بعد دیگر خطوں تک بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔

سابق بھارتی سفیر اکبرالدین نے بورڈ میں شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے اسے اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم قرار دیا جبکہ سابق سفیر رنجیت رائے کا کہنا ہے کہ بورڈ کی کوئی واضح مدت مقرر نہیں اور اسے غزہ سے باہر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!