افغانستان میں طالبان کی حکومت میں اختلافات کا انکشاف ہوا ہے جس کے باعث خانہ جنگی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، غیر ملکی میڈیا نے طالبان حکمرانوں کے ایک لیک آڈیو کے حوالے سے پردہ اٹھا دیا ہے جس کے مطابق طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوند زادہ نے حکومت کے اندر باہمی سازشوں اور ٹکراؤ کا اعتراف کر لیا ہے، آڈیو میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اختلافات جاری رہے تو امارات اسلامیہ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کابل اور قندھار دھڑوں کے درمیان تصادم کھل کر سامنے آ گیا ہے، اتحاد محض دعوئوں تک محدود ہے، طالبان وزیر مہاجرین خلیل الرحمان حقانی کی ہلاکت کے بعد حقانی نیٹ ورک اور قندھار قیادت میں کشیدگی شدید ہو چکی ہے۔
حکام نے افغانستان بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کرنے کا حکم دے دیا، قندھار سے آیا، کابل دھڑے نے حکم ماننے سے انکار کر دیا، کابل قیادت کا انٹرنیٹ بحال کرنا سپریم لیڈر کیخلاف بغاوت قرار دیا جا رہا ہے۔


