گرین لینڈ تنازع پر امریکا اور نیٹو کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ختم ہونے لگی اور دونوں کے درمیان ابتدائی معاہدہ طے پاگیا ہے جو برطانیہ کے سائپرس معاہدہ کی طرز کا ہوگا جس میں امریکہ کو محدود اختیارات اور معدنی وسائل میں حصہ ملے گا۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رٹے نے گرین لینڈ اور پورے آرکٹک خطے کیلئے معاہدہ کے فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت امریکا کو گرین لینڈ کے چند منتخب علاقوں میں اختیارات حاصل ہونگے جبکہ وہ اسکے معدنی وسائل میں بھی حصہ دار ہو گا، امریکا وہاں اپنا جدید گولڈن ڈوم سسٹم بھی نصب کریگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ امریکا اور تمام نیٹو ممالک کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا، اس موقع پر ٹرمپ نے یوٹرن لیتے ہوئے یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی واپس لے لی، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا اگلے ماہ نیٹو پر کوئی نیا ٹیرف نہیں عائد کیا جائیگا۔
امریکا معاہدے کے تحت فوجی مشقیں، انٹیلیجنس مشنز اور تربیتی سرگرمیاں ڈنمارک سے اجازت لئے بغیر انجام دے سکے گا، اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ گرین لینڈ کو خریدنا چاہتے ہیں، اسے کرائے پر لینا نہیں چاہتے، انہیں نایاب معدنیات کی ضرورت نہیں، انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس جزیرے پر اب تک کا سب سے عظیم سنہرا گنبد تعمیر کرینگے۔
ادھر روسی صدر پیوٹن نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ کی ملکیت کا معاملہ امریکا اور ڈنمارک آپس میں حل کرلیں، روس کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
ڈنمارک کی وزیراعظم نے کہاہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے بیانات کا خیر مقدم کرتی ہیں تاہم فوجی طاقت کے استعمال کو قطعی طور پر مسترد کیا گیا ہے۔


