بدھ, جنوری 21, 2026
ہومتازہ ترینفنی تربیتی پروگرامز آسیان کے ہنر مندوں کی ترقی کے پل بن...

فنی تربیتی پروگرامز آسیان کے ہنر مندوں کی ترقی کے پل بن گئے

شی جیا ژوانگ (شِنہوا) چین کے شمالی صوبے ہیبے میں ایک سٹوڈیو میں سمارٹ فون کی سکرین کے سامنے کھڑی تھائی طالبہ پیریسا یانگدیو نے اپنی مادری زبان میں مقامی مصنوعات کا تعارف آن لائن صارفین سے کرایا۔

یانگدیو نے کہا کہ میں کراس بارڈر ای کامرس میں ایک نوآموز تھی لیکن اب میں خود سے لائیو براڈکاسٹ سنبھال سکتی ہوں۔‘‘ وہ تھائی لینڈ کے ایک تکنیکی ادارے میں کمپیوٹر کی طالبہ ہیں اور اس وقت بین الاقوامی تبادلہ پروگرام کے تحت ہیبے سافٹ ویئر انسٹی ٹیوٹ میں ایک سال گزار رہی ہیں۔

یانگدیو کا یہ سفر چینی اور تھائی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ تھائی لینڈ میں چینی کمپنیوں کے مشترکہ پروگرام کا حصہ ہے۔ روایتی کلاس رومز کے برعکس یہ پروگرام عملی تجربے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ طلبہ فیکٹریوں اور ڈیجیٹل مراکز کا دورہ کرتے ہیں تاکہ ویڈیو ایڈیٹنگ، امیج ڈیزائن اور مارکیٹنگ جیسی مہارتیں سیکھ سکیں۔

2025 میں اس پروگرام کے تحت 20 تھائی طلبہ کو طویل مدتی تعلیم کے لئے منتخب کیا گیا۔ اسی دوران 10 چینی اساتذہ تھائی لینڈ گئے تاکہ مقامی عملے کو چینی زبان اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت فراہم کر سکیں۔

ہیبے سافٹ ویئر انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ انٹرنیٹ کامرس سے وابستہ استاد وانگ زی یے نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد سادہ ہے ’’کسی کو مچھلی پکڑنا سکھانا‘‘ یعنی تعلیم کو صنعتوں کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا۔

گزشتہ چند برسوں میں چین اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) نے پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے میں تعاون کو گہرا کیا ہے جو علاقائی تعاون کا ایک اہم محور ہے۔

ڈگری کورسز، آجروں کی معاونت سے تربیت اور قلیل مدتی تبادلہ پروگراموں جیسے منصوبوں نے کارکنوں کی مہارتوں میں اضافہ کیا ہے تاکہ وہ آسیان بھر کی صنعتوں کی ضروریات پوری کر سکیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!