اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کے 31 اداروں سے الگ ہونے کے فیصلے کے حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے روزانہ کی بریفنگ میں اس حوالے سے نفی میں جواب دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 7 جنوری کو دستخط کی گئی ایک صدارتی یادداشت کے مطابق امریکہ 66 بین الاقوامی تنظیموں سے دستبردار ہونے جا رہا ہے۔ اس یادداشت کا اطلاق اقوام متحدہ کے 31 اداروں اور 35 غیر اقوام متحدہ تنظیموں پر ہوتا ہے جن کے بارے میں وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ ’’اب امریکی مفادات کی حمایت نہیں کرتیں‘‘۔
8 جنوری کو ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سربراہ نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے کئے گئے امریکی اعلان پر افسوس کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے تمام ادارے رکن ممالک کی جانب سے دیئے گئے اپنے مینڈیٹ پر عملدرآمد جاری رکھیں گے اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اقوام متحدہ ان لوگوں کے لئے خدمات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے جو ہم پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم عزم کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھیں گے۔


