واشنگٹن (شِنہوا) ایران میں یو ایس ورچوئل ایمبیسی نے سفری انتباہ اپ ڈیٹ کیا ہے اور امریکی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایران چھوڑ دیں کیونکہ ملک میں جاری انتشار اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔
ورچوئل ایمبیسی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی شہریوں کو توقع رکھنی چاہیے کہ انٹرنیٹ بندشیں جاری رہیں گی، مواصلات کے متبادل ذرائع کا انتظام کریں اور اگر محفوظ ہو تو ایران چھوڑ کر زمینی راستے سے ارمینیا یا ترکیہ جانے پر غور کریں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے دوہری شہریت رکھنے والے شہری ایرانی پاسپورٹ کے ذریعے ہی ایران چھوڑیں کیونکہ ایرانی حکومت دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری ایران میں پوچھ گچھ، گرفتاری یا حراست کے خطرے میں ہیں۔
بیان کے مطابق فضائی کمپنیوں نے ایران آمد اور روانگی کی پروازیں محدود یا منسوخ کر دی ہیں اور کئی کمپنیوں نے جمعہ تک خدمات معطل کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے طویل عرصے سے ایران کو لیول 4 کے تحت "سفر کے لئے ممنوع” ملک قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ امریکی شہری کسی بھی وجہ سے ایران نہ جائیں اور جو پہلے ہی ایران میں ہیں، وہ فوری طور پر ملک چھوڑدیں کیونکہ سکیورٹی خطرات سنگین ہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ "بعض سخت آپشنز” پر غور کر رہی ہے، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ عسکری کارروائی بھی شامل ہے اور ایران "امریکی سرخ لکیر” عبور کرنا شروع کر رہا ہے۔
ایران میں امریکی سفارتخانہ یا قونصل خانہ موجود نہیں ہے اور سوئس سفارتخانہ تہران میں امریکی مفادات کی حفاظت کر رہا ہے لیکن خدمات محدود ہیں۔


