واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ کاروبار کرے گا، اس پر امریکہ کے ساتھ کئے جانے والے کسی بھی کاروبار پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ یہ حکم "فوری طور پر نافذ العمل” ہے اور یہ "حتمی اور فیصلہ کن” ہے۔
یہ بیان ایران کے خلاف واشنگٹن کے معاشی دباؤ کی مہم میں تازہ ترین شدت کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ ٹرمپ بارہا دھمکی دے چکے ہیں کہ ان کی انتظامیہ ’’کچھ انتہائی سخت آپشنز‘‘ پر غور کر رہی ہے جن میں ممکنہ فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے اس سے قبل پیر کے روز کہا تھا کہ ایران سے نمٹنے کے لئے امریکہ کی ترجیح اب بھی سفارت کاری ہے تاہم ٹرمپ انتظامیہ ضرورت پڑنے پر فوجی آپشنز کو مسترد نہیں کرے گی۔
لیوٹ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ سفارت کاری پہلا آپشن ہے۔ تاہم وہ ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کی مہلک طاقت اور قوت استعمال کرنے سے نہیں ہچکچاتے، جب اور جہاں وہ اسے ضروری سمجھیں۔


