وزیراعظم شہباز شریف نے زراعت شعبے میں جدت کیلئے سروس پرووائیڈرز کو ترجیحی طور پر قرض فراہمی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی شعبے و چھوٹے کسانوں کیلئے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، سٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کو قرض فراہمی آسان بنائے، نئے کاروبار شروع کرنے کیلئے نوجوانوں کو انٹرپرینیورشپ کی تربیت دی جائے۔
بدھ کو وزیراعظم کی زیر صدارت چھوٹے و درمیانے پیمانے کے نئے کاروبار و چھوٹے کسانوں کو قرض فراہمی میں سہولت، معاشی شمولیت و نجی شعبے کو قرض کی فراہمی پر جائزہ اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں نائب وزیر اعظم و وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلی حکام کیساتھ ساتھ گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے شرکت کی۔
اجلاس کو نجی شعبے کو گزشتہ برسوں میں کاروبار، مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کیلئے فراہم قرض کے اعداد و شمار اور معیشت کی بہتری کیساتھ تعداد میں اضافے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 2021-22ء کی نسبت دسمبر 2025ء تک نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرض کی فراہمی میں بہتری آئی اور قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد دو گنا ہو کر 3 لاکھ 3ہزار کی سطح عبور کر گئی اور قرض کا حجم 1.1 ٹریلین پر پہنچ گیا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں رواں برس قرض سے مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد کا تخمینہ 30لاکھ لگایا گیا ہے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 28لاکھ تھی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے نئے کاروبار اور جدید مشینری کیلئے قرض کی فراہمی کو ترجیح دینے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں، زرعی شعبے کو فراہم کئے گئے قرض میں جدید مشینری اور فصلوں کیساتھ ساتھ لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبے بھی شامل ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سمیڈا چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروباروں کو مالیاتی امور کی تربیت اور آگاہی کیلئے جلد پروگرام کا اجرا کریگی جبکہ پنجاب میں کسانوں کو جدید زرعی آلات و مشینری کی فراہمی کیلئے سروس پروائیڈرز کو قرض کی فراہمی کے پروگرام کا اجرا کیا جا چکا ہے، اسی طرح چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیت کیلئے سٹیٹ بینک کی جانب سے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر مبنی”زرخیز-ای ایپ”کا اجرا بھی کیا چکا ہے جس سے کسانوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہدایت کی کہ سٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کو قرض فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے اقدامات کرے،زراعت کے شعبے میں جدت کے فروغ کے لئے سروس پرووائیڈرز کو ترجیحی بنیادوں پر قرض فراہمی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعظم نے معاون خصوصی ہارون اختر کو سمیڈا ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام صوبوں کا دورہ کر کے چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار کی سہولت کیلئے صوبوں کیساتھ مل کر جامع پالیسی سازی کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ نجی شعبے بالخصوص ایس ایم ایز اور چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے قرض کی فراہمی میں سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، ترقی یافتہ ممالک میں ایس ایم ایز معیشت و صنعتوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نوجوانوں کو انٹرپرنیورشپ کی تربیت دی جائے تاکہ نئے کاروبار شروع ہوں اور ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ جلد ایک ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیلئے نجی شعبے بالخصوص ایس ایم ایز سیکٹر و زرعی شعبے کو قرض فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے سفارشات مرتب کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں اس حوالے سے باقاعدگی سے بذات خود اجلاس کی صدارت و نگرانی کروں گا۔


