بیجنگ(شِنہوا)چین نے بدھ کے روز 2026 کے لئے گاڑیوں کی تبدیلی پر سبسڈی پروگرام کے تفصیلی رہنما اصول جاری کر دیئے ہیں تاکہ کھپت میں اضافے کی وسیع تر کوششوں کے تحت گاڑیوں کی منڈی کو مسلسل سہارا دیا جا سکے۔
وزارت تجارت اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ نوٹس کے مطابق پٹرول سے چلنے والی مسافر گاڑیاں اس صورت میں سبسڈی کی اہل ہوں گی، اگر ان کی رجسٹریشن 30 جون 2013 یا اس سے قبل ہوئی ہو۔ ڈیزل اور دیگر ایندھن سے چلنے والی مسافر گاڑیوں کے لئے شرط ہے کہ ان کی رجسٹریشن 30 جون 2015 یا اس سے پہلے کی ہو جبکہ نئی توانائی سے چلنے والی مسافر گاڑیاں اس صورت میں تبدیلی کی اہل ہوں گی کہ اگر ان کی رجسٹریشن کی تاریخ 31 دسمبر 2019 یا اس سے قبل کی ہو۔
وہ صارفین جو پرانی گاڑی سکریپ کر کے نئی گاڑی خریدیں گے، انہیں نئی گاڑی کی قیمت کے ایک مخصوص تناسب سے سبسڈی دی جائے گی، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 20 ہزار یوآن (تقریباً 2ہزار 845 امریکی ڈالر) مقرر کی گئی ہے۔
چین نے یہ سبسڈیز 2024 میں اشیائے صارف کی تبدیلی کے ایک وسیع تر پروگرام کے تحت متعارف کرانا شروع کی تھیں، جس میں گاڑیوں کے علاوہ سمارٹ فونز اور گھریلو آلات سمیت متعدد مصنوعات شامل ہیں۔ اس اقدام نے منڈی کے اعتماد کو بڑھانے اور ملکی طلب کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق گاڑیوں کے تبادلے کے پروگرام میں سبسڈیز کی تجدید سے صارفین کے اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے اور ماحول دوست نقل و حمل کو فروغ ملے گا۔
حالیہ مرکزی اقتصادی ورک کانفرنس کے مطابق آئندہ سال چین کی بڑی معاشی ترجیحات میں اندرونی طلب میں اضافہ سرفہرست رہے گا جس کے تحت کھپت بڑھانے کی مہم چلانے اور شہری و دیہی آبادی کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے منصوبے شامل بھی ہیں۔


