اقوام متحدہ(شِنہوا)اقوام متحدہ کی ایک سینئر عہدیدار برائے تجارت نے کہا ہے کہ اس وقت جب غیر یقینی صورتحال اور بڑھتی ہوئی تحفظ پسندی عالمی معیشت پر مسلسل اثر انداز ہو رہے ہیں، چین عالمی تجارتی اور معاشی ترقی میں ایک کلیدی محرک بنا ہواہے۔
شِنہوا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) کے شعبہ بین الاقوامی تجارت و اجناس کی ڈائریکٹر لوز ماریہ دی لا مورا نے خبردار کیا کہ اس سال کے آغاز سے امریکہ کی محصولات پالیسی میں تبدیلی نے بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے متعلق نمایاں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس سال کے آغاز سےمحصولات کی اوسط سطح 2.6 فیصد سے بڑھا کر 17.9 فیصد کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی غیر یقینی صورتحال عموماً سرمایہ کاروں، تجارتی شراکت داروں اور ترسیلی نظام کے کام کرنے کے طریقوں پر اثر ڈالتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی رکاوٹیں نہ صرف امریکی درآمدات اور عالمی تجارت پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ مجموعی معاشی ترقی میں تجارت کے کردار کو بھی کمزور کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں عالمی اقتصادی ترقی میں مزید سست روی کا امکان ہے۔ 2026 میں ہم عالمی معیشت کی ترقی کی شرح میں کمی دیکھ رہے ہیں۔ یہ رجحان 2025 کے پورے سال کے دوران نظر آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2026 میں تجارتی ترقی کے اہم محرک گلوبل ساؤتھ سے ہوں گے۔ ترقی پذیر معیشتوں کے درمیان تجارت، جسے ساؤتھ-ساؤتھ تجارت کے نام سے جانا جاتا ہے، اب عالمی تجارت کا 40 فیصد ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین نے ان افریقی ممالک کے لئے صفر ٹیرف کی پالیسی اختیار کی ہے جن کے ساتھ چین کے سفارتی تعلقات ہیں اور اسے اس بات کو یقینی بنانے کی اہم کوششوں کا حصہ قرار دیا کہ تجارت ترقی کے محرک کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندہ اور بڑے درآمد کنندہ کے طور پر چین عالمی سپلائی اور ویلیو چینز میں گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔


