پیر, جنوری 12, 2026
ہومپاکستانپاکستانی پروفیسر چین میں درختوں کی بیماریوں کی تشخیص کرکے مشہور...

پاکستانی پروفیسر چین میں درختوں کی بیماریوں کی تشخیص کرکے مشہور ہو گیا

گوانگ ژو(شِنہوا)ابلتا ہوا پانی، پیالوں کو گرم کرنا، پتیاں دھونا اور کشید کرنا، اٹھتی ہوئی بھاپ اور مسحور کن خوشبو کے درمیان چائے کا یہ نفیس فن عموماً چینی چائے کے ماہرین سے منسوب کیا جاتا ہے مگر چین کے جنوبی صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر گوانگ ژو میں واقع ساؤتھ چائنہ ایگریکلچرل یونیورسٹی (ایس سی اے یو) میں پاکستانی ایسوسی ایٹ پروفیسر علی شوکت بھی اسی مہارت سے یہ فن پیش کرتے ہیں۔

چین کی چائے کی ثقافت انتہائی گہری ہے۔ علی شوکت نہ صرف چائے سے لطف اندوز ہوتے اور اسے تیار کرتے ہیں بلکہ چائے کے پودوں کا “علاج” بھی کرتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں شوکت اور ان کی ٹیم گوانگ ڈونگ کے شہر چاؤ ژو کے فینگ ہوانگ ٹاؤن میں کام کر رہی ہے جو اولونگ چائے کی پیداوار کے لئے مشہور علاقہ ہے اور اپنی فینکس ڈان کانگ چائے کی منفرد خوشبو اور ذائقے کے باعث “چائے کا عطر” کہلاتی ہے۔

یہاں شوکت سبز کیڑوں کے تدارک اور قدیم چائے کے درختوں کی بحالی کے منصوبوں کی قیادت کر رہے ہیں جس کے باعث مقامی لوگ انہیں “چائے کے پودوں کا غیر ملکی ڈاکٹر” کہتے ہیں۔

شوکت کا چین سے تعلق 2006 میں قائم ہوا۔ پاکستان کی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد 26 سالہ شوکت کو چین، فرانس اور پاکستان میں متعدد ڈاکٹریٹ پروگراموں میں داخلہ ملا مگر انہوں نے چین کا انتخاب کیا۔

شوکت نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ میرے چند قریبی دوستوں اور میں نے یہاں پی ایچ ڈی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ہمیں بہتر طرز زندگی، اعلیٰ تعلیمی ماحول اور خصوصاً زرعی تحقیق کے وافر وسائل نے اپنی طرف متوجہ کیا۔

ڈاکٹریٹ مکمل کرنے کے بعد شوکت نے ایس سی اے یو میں بطور استاد قیام کیا اور وہ اب ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ 2018 کے اواخر میں فینگ ہوانگ ٹاؤن کے چائے کے کاشتکار ایک بحران کا شکار ہوگئے۔ ان کے چائے کے پودے نامعلوم وجوہات کی بنا پر مرجھانے اور مرنے لگے جبکہ کیڑے مار ادویات بھی موثر ثابت نہ ہوئیں۔ اس پر مقامی حکومت نے ایس سی اے یو سے مدد طلب کی۔

شوکت اور ان کی ٹیم نے چائے کے باغات کا دورہ کیا اور پھپھوندی کے انفیکشن کا شبہ ظاہر کیا۔ تاہم کسانوں کا اعتماد حاصل کرنا ایک چیلنج تھا۔ شوکت کے مطابق چائے کے کاشتکار ہم پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ چونکہ وہ ساری زندگی چائے کے ساتھ کام کرتے آئے ہیں اس لئے وہ باہر سے آنے والوں سے زیادہ جانتے ہیں۔

چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر چھاؤ ژو کے فینگ ہوانگ ٹاؤن میں علی شوکت چائے کے باغ کا معائنہ کر رہے ہیں-(شِنہوا)

حوصلہ نہ ہارتے ہوئے شوکت اور ان کی ٹیم نے گوانگ ژو اور چاؤ ژو کے درمیان بار بار سفر کئے، متاثرہ پودوں کے نمونے جمع کئے اور لیبارٹری میں تجربات کر کے پھپھوندی کو الگ کیا اور اس کی افزائش کی۔ 2 سال سے زائد کی محنت کے بعد انہوں نے ایک نئی بیماری کی نشاندہی کی اور اس کی روک تھام کی تکنیکیں تیار کیں۔

شوکت نے کہا کہ دو تین سال بعد کسانوں نے نتائج دیکھے اور ہم پر زیادہ اعتماد کرنے لگے۔

علی شوکت لیبارٹری میں تجربہ کر رہے ہیں-(شِنہوا)

ان کی کوششوں سے تقریباً 60 نایاب اور خطرے سے دوچار چائے کے قدیم پودے محفوظ ہوئے اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکا گیا۔ مقامی محکمہ زراعت کے محقق لی گوئی بین نے کہا کہ انہوں نے بیماری پر قابو پانے کے حل تلاش کئے جس سے چائے کے کاشتکاروں کے نقصانات کم ہوئے اور بڑے پیمانے پر تباہی سے بچاؤ ممکن ہوا۔

شوکت نے برسوں کے دوران چین کے دیہی علاقوں کی ترقی بھی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ انہوں نے بطور ڈاکٹریٹ طالب علم یانگ جیانگ میں ایک نایاب ترشاوہ پھل کی تحقیق کے لئے اپنے پہلے کاروباری سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہم دوپہر کو ایک منی وین میں روانہ ہوئے اور اندھیرا ہونے کے بعد پہنچے۔ اب توسیع شدہ شاہراہ کی بدولت سفر کا وقت صرف 2 گھنٹے رہ گیا ہے۔

چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر چھاؤ ژو کے فینگ ہوانگ ٹاؤن میں علی شوکت اور ان کی ٹیم کے ارکان چائے کے باغ کا معائنہ کرتے ہوئے-(شِنہوا)

یہ دیہی چین میں آنے والی تبدیلیوں کی صرف ایک مثال ہے۔ شوکت نے گوانگ ڈونگ، ہوبے، ہونان اور دیگر صوبوں کے دیہات کا دورہ کرتے ہوئے زرعی منصوبوں پر کام کیا اور ترقی کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ یہ متاثر کرتا ہے کہ چاہے پہاڑی علاقہ کتنا ہی دور یا دشوار گزار کیوں نہ ہو، اگر وہاں لوگ رہتے ہیں تو سڑکیں، بجلی اور پانی دستیاب ہیں۔

شوکت نے دیہی علاقوں کی طرف واپسی کے رجحان کا بھی ذکر کیا جس کی وجہ چین کی دیہی ہنرمندی کی ترقی پر توجہ اور حکومت کی جانب سے ماہرین کو دیہات میں خدمات انجام دینے کی ترغیب ہے۔ ستمبر 2024 میں گوانگ ڈونگ نے دیہی احیا کے لئے 2 ہزار سے زائد زرعی سائنس و ٹیکنالوجی ماہرین کو تعینات کرنے کا پروگرام شروع کیا۔

دوسرے بیچ کے ماہرین میں شامل شوکت اور ان کی ٹیم فینگ ہوانگ ٹاؤن میں سبز کیڑوں کے تدارک کے شمسی توانائی سے چلنے والے کیڑے مار لیمپس جیسے طریقوں کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ پائیدار اور صحت مند چائے کی پیداوار کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایس سی اے یو میں تقریباً 2 دہائیوں پر محیط قیام کے دوران شوکت نے بین الاقوامی تعاون میں بھی پل کا کردار ادا کیا ہے۔ نومبر 2017 میں انہوں نے ایس سی اے یو اور پاکستان کی یونیورسٹی آف سرگودھا کے درمیان چین-پاکستان مشترکہ تحقیقی مرکز برائے مربوط ترشاوہ پھل کے کیڑوں کے انتظام کے قیام میں سہولت فراہم کی۔ یہ مرکز افرادی تبادلے، جدید کیڑوں کے تدارک کی ٹیکنالوجیز کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے استحکام کے لئے کام کرتا ہے۔

اسی دوران ترشاوہ پھلوں میں کیڑوں کے حیاتیاتی تدارک کے لئے شوکت کی سربراہی میں تیار کی گئی ٹیکنالوجی پاکستان کے صوبہ سندھ اور پنجاب کے متعدد ترشاوہ پھل پیدا کرنے والے علاقوں میں متعارف کرائی گئی جس سے کیمیائی زرعی ادویات کے استعمال میں نمایاں کمی آئی اور پھلوں کے معیار اور برآمدی مسابقت میں بہتری آئی۔

علی شوکت کو تمغہ امتیاز عطا کئے جانے کی فہرست کا سکرین شاٹ-(شِنہوا)

اس سال اگست میں پاکستانی حکومت نے 2025 کے سول ایوارڈز کی فہرست کا اعلان کیا جس میں علی شوکت کو زرعی سائنسی اختراع اور بین الاقوامی سائنسی و تکنیکی تعاون میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔

علی شوکت نے زرعی ٹیکنالوجی میں جدت اور بین الاقوامی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ چین اور پاکستان دونوں میں پائیدار زرعی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے مزید خدمات انجام دی جا سکیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!