چھانگشا (شِنہوا) چین اپنا بے دو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم (بی ڈی ایس) عالمی منڈیوں میں مزید آگے لے جا رہا ہے، اس نظام کو ایک مشترکہ عالمی خدمت کے طور پر متعارف کرانے کے مقصد کے تحت چین کے وسطی علاقے میں رواں ہفتے ایک کانفرنس میں نئی خدمات، ٹیکنالوجیز اور ایپلی کیشنز متعارف کرائی گئی ہیں۔
صوبہ ہونان کے شہر ژوژوو میں بی ڈی ایس ایپلی کیشنز سے متعلق ہونے والی پانچویں بین الاقوامی کانفرنس میں بے دو ایپلی کیشنز کے لئے بین الاقوامی تعاون اور جدت طرازی کے ایک مرکز کا باضابطہ افتتاح کیا گیا جس کا مقصد بیرون ملک فلیگ شپ ایپلی کیشن نمائش کے منصوبوں کا ایک سلسلہ شروع کرنا اور بتدریج چین کی بے دو صنعت کو بین الاقوامی مارکیٹوں کے ساتھ مربوط کرنے والے تعاون کا لائحہ عمل تشکیل دینا ہے۔
چین بے دو ٹیکنالوجی، مصنوعات، معیارات اور خدمات کو بیرون ملک منتقل کرنے، اس نظام کو عالمی بنیادی ڈھانچے میں ضم کرنے اور بیلٹ اینڈ روڈ کے حامل ملکوں میں معاشی و سماجی ترقی میں اعانت کے لئے مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔
اجلاس میں جاری کردہ بے دو صنعت کی ترقی سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں عالمی نیٹ ورکنگ مکمل ہونے کے بعد سے اس نظام کی عالمی خدمات کی صلاحیتیں مزید مضبوط ہوئی ہیں اور دنیا بھر میں مستحکم، قابل اعتماد اور مسلسل خدمات فراہم کرنے کی بنیاد تیار ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بے دو کی مقام کے تعین، رہنمائی، وقت کے تعین اور مختصر پیغام رسائی کی صلاحیتوں میں مسلسل بہتری آئی ہے جس سے آمد و رفت، زراعت، سمندری ماہی گیری اور ہنگامی بچاؤ جیسے اعلیٰ درجے کے درست اطلاق میں اس کی عالمی سطح پر توسیع کو تقویت ملی ہے۔
بے دو کو 11 بین الاقوامی تنظیموں کے معیار کے نظام میں مکمل طور پر شامل کر لیا گیا ہے جن میں بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن، بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن اور تلاش و بچاؤ کے لئے ایک بین الاقوامی سیٹلائٹ سسٹم کوسپاس-سارساٹ شامل ہے جو سول ایوی ایشن، میری ٹائم امور اور موبائل کمیونیکیشنز جیسے بنیادی شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔


