بیجنگ (شِنہوا) چین کے قومی ترقی و اصلاحات کمیشن (این ڈی آر سی) نے کہا ہے کہ امریکہ سمیت تمام غیر ملکی کمپنیوں کا چین میں اپنے کاروبار کو وسعت دینے اور چین کے 15 ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) پر عملدرآمد سے پیدا ہونے والے ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا خیرمقدم کریں گے۔
چین کے اعلیٰ اقتصادی منصوبہ ساز ادارے نے یہ بات ایک گول میز اجلاس میں کہی۔ جس میں چین میں امریکی چیمبر آف کامرس (ایم چھیم چائنہ)، یوایس چائنہ بزنس کونسل اور چین میں کام کرنے والی 60 سے زائد امریکی کمپنیوں کے تقریباً 100 نمائندوں نے شرکت کی۔
کمیشن نے امید ظاہر کی کہ امریکی کمپنیاں دونوں ملکوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں گی، باہمی تعاون کے امکانات سے فائدہ اٹھائیں گی اور مزید مشترکہ منصوبوں کو عملی شکل دینے میں مدد کریں گی۔
اجلاس میں این ڈی آر سی کے حکام نے چین کے 15 ویں پانچ سالہ منصوبے کے خدوخال بیان کئے اور پانچ سالہ مدت کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے وضع کی گئی پالیسیوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ایم چھیم چائنہ، یو ایس چائنہ بزنس کونسل اور جدید زراعت، صارفین کی الیکٹرانکس، جدید ٹیکنالوجی، بائیو میڈیسن، صنعتی پیداوار اور بجلی کے شعبوں سے وابستہ امریکی کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی چینی حکام کے ساتھ اپنے متعلقہ مسائل پر تفصیلی بات چیت کی۔
چین کا منصوبہ ہے کہ 15 ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران اعلیٰ معیار کی معاشی و تجارتی وسعت کو فروغ دیا جائے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو چینی منڈی میں ترقی کرنے میں مدد دینے کے لئے متعدد پالیسیاں متعارف کرائی جائیں۔
15 ویں پانچ سالہ منصوبے کے خدوخال میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اس کے بہتر استعمال کے لئے مزید اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنانے اور متعلقہ سہولیات و تحفظ کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔


