بیجنگ (شِنہوا) چین کے محکمہ موسمیات (سی ایم اے) نے بتایا ہے کہ چین کا قومی موسمیاتی مرکز ’گیرونگ-راسووا‘ سرحدی گزرگاہ پر مٹی کا ایک بڑا تودہ گرنے کے بعد امداد و بحالی کے کاموں میں معاونت کے لئے نیپال کو مسلسل موسمیاتی نگرانی اور پیشگوئی کی خدمات فراہم کر رہا ہے۔
آفت کے بعد مرکز نے ہنگامی ردعمل کا آغاز کیا اور چین کے مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی موسمیاتی پیشگی انتباہی نظام ’’مازو‘‘ کے نیپال کے لئے تیار کردہ کلاؤڈ ورژن کے ذریعے موسمیاتی خدمات فراہم کرنا شروع کر دیں۔
اس مرکز نے متاثرہ علاقے اور اس کے اطراف کے موسمی حالات کا باقاعدگی سے تجزیہ کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ چند ہفتوں کے لئے طویل المدتی پیشگوئیاں بھی تیار کی ہیں۔
سی ایم اے کے تعاون اور نگرانی میں نیشنل کلائمیٹ سنٹر نیپال کو موسمیاتی نگرانی اور موسمیاتی پیش گوئی کی معاونت فراہم کر رہا ہے۔
یہ مرکز موسمیاتی نگرانی کے لئے درجہ حرارت، بارش اور زمین خشک ہونے جیسے حالات کا احاطہ کرنے والی پانچ قسم کی باقاعدہ خدمات تیار کرتا ہے۔ یہ 10 اہم موسمیاتی اشاریوں کی بھی نگرانی کرتا ہے جن میں ایل نینو- جنوبی ارتعاش یا ای این ایس او اور میڈن-جولین ارتعاش یا ایم جے او شامل ہیں۔
ای این ایس او کا تعلق ایک ایسے قدرتی موسمیاتی نظام سے ہے جو دنیا بھر کے موسم کو متاثر کرتا ہے۔ اس میں گرم ایل نینو مرحلہ اور سرد لا نینا مرحلہ شامل ہے۔ ای این ایس او کے برعکس جو ایک ہی جگہ قائم رہتا ہے ایم جے او بادلوں، بارشوں، تیز ہواؤں اور ہوا کے دباؤ کا مشرق کی جانب بڑھنے والا ایک ایسا سلسلہ ہے جو خط استوا کے علاقوں سے گزرتا ہے اور اوسطاً 30 سے 60 دنوں میں اپنے ابتدائی نقطے پر واپس آتا ہے۔
یہ مرکز موسمیاتی پیشگوئی کے لئے فینگ شون نامی اے آئی موسمیاتی ماڈل استعمال کرتے ہوئے نیپال کو 60 دنوں کے لئے روزانہ کی بنیاد پر درجہ حرارت اور بارش کی پیشگوئیاں، نیز ای این ایس او اور ایم جے او جیسے موسمیاتی مظاہر کے متعلق پیشگوئی کی معلومات فراہم کر رہا ہے۔


