بیجنگ (شِنہوا) چین کے شمال مغربی صوبے چھنگ ہائی کے علاقے لنگ ہو میں واقع ’تیان یو ٹیلی سکوپ‘ نے ایک ہی تصویر میں برج دجاجہ میں موجود شمالی امریکہ نیبولا اور پیلیکن نیبولا سمیت ملکی وے کہکشاں کے اردگرد موجود 10 لاکھ سے زائد ستاروں کو کامیابی سے عکس بند کیا ہے۔
’پیپلز ڈیلی‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ شاندار کامیابی ٹیلی سکوپ کے سائنسی مشاہداتی مرحلے میں داخل ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔
2022 میں شروع کئے گئے اس منصوبے کی قیادت شنگھائی جیاؤ تونگ یونیورسٹی کے سونگ داؤ لی انسٹی ٹیوٹ (ٹی ڈی ایل آئی) کر رہا ہے جبکہ اس کی تیاری کی ذمہ داری چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی شنگھائی فلکیاتی رصدگاہ کے سپرد ہے۔ توقع ہے کہ یہ ٹیلی سکوپ اکتوبر 2026 میں باقاعدہ سائنسی سروے کی عملی سرگرمیوں کا آغاز کر دے گی۔
تیان یو ٹیلی سکوپ صرف ایک ہی تصویر میں تقریباً 9 مربع ڈگری کے وسیع آسمانی رقبے کا احاطہ کرتی ہے، جو 40 سے زائد چاند کے رقبے کے برابر ہے۔
رپورٹ کے مطابق کائنات میں ستاروں کے دھماکوں اور ان کے آپس میں ٹکرانے سے پیدا ہونے والی روشنی اور لہریں اکثر چند سیکنڈ یا منٹوں میں غائب ہو جاتی ہیں۔ جب خلائی دوربینیں یا دیگر آلات اطلاع دیتے ہیں تو تیان یو ٹیلی سکوپ فوری طور پر اس جانب گھوم جاتی ہے اور اپنے زیر نگرانی حصے کی ریکارڈنگ پیچھے لے جا کر دھماکے سے چند سیکنڈز پہلے کا فلکیاتی منظر دوبارہ دکھا سکتی ہے۔
اخبار کے مطابق ٹی ڈی ایل آئی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور تیان یو ٹیلی سکوپ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر فینگ فابو کا کہنا تھا کہ یہ ٹیلی سکوپ کروڑوں فلکیاتی اجسام کی متواتر فوٹو میٹرک نگرانی کرے گی اور ان کی روشنی میں آنے والی باریک تبدیلیاں محفوظ کرے گی تاکہ غیر شمسی سیارے، مختلف قسم کے متغیر ستارے، سپرنووا اور نظام شمسی کے اندر موجود چھوٹے اجسام دریافت کئے جا سکیں۔
تیان یو پروجیکٹ پہلے ہی برطانیہ، بیلجیئم اور چلی کی تحقیقاتی ٹیموں کی توجہ حاصل کر چکا ہے اور اس کے حاصل کردہ اعداد و شمار کو اندرون اور بیرون ملک جاری متعدد سروے منصوبوں کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔
آئندہ مراحل میں تیان یو ٹیلی سکوپ آزمائشی مشاہدات سے آگے مستحکم سرگرمیوں اور ریموٹ کنٹرول سے مکمل طور پر خودکار مشاہداتی نظام کی جانب مرحلہ وار پیش رفت کرے گی۔


