میکسیکو سٹی (شِنہوا) میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام نے کہا ہے کہ امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن میں بدعنوانی کے حالیہ انکشافات کے بعد امریکہ کو بھی منشیات کی سمگلنگ کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
شین بام نے قومی محل میں صبح کی اپنی معمول کی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ’’ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہاں ان کا ایک بہت اہم کردار ہے اور انہیں صرف میکسیکو پر ہی انگلیاں نہیں اٹھاتے رہنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ میکسیکو امریکہ میں فینٹینائل کی سپلائی میں 70 فیصد سے زائد کمی لانے میں کامیاب رہا ہے جس کا اعتراف امریکی حکام نے بھی کیا جبکہ امریکہ میں میتھامفیٹامائن کی پیداوار اب بھی جاری ہے، یہاں تک کہ اس سے متاثر ہو کر ایک ٹی وی سیریز بھی بنائی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ وہ جگہ بھی ہے جہاں منشیات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بڑے پیمانے پر منشیات تقسیم اور منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔
شین بام نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ منشیات کے تدارک کی قومی پالیسی کے امریکی دفتر کی ڈائریکٹر سارہ کارٹر نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ میں منشیات کا استعمال عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔
مئی میں کارٹر کے دفتر نے ایک دستاویز جاری کی جس میں امریکی وفاقی حکومت نے منشیات کی لت سے نمٹنے کے لئے ایک قومی عوامی صحت پالیسی کی ضرورت تسلیم کی تھی۔
اس سال کے شروع میں کارٹر نے میکسیکو کا دورہ کیا اور تشدد کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے اور منشیات کے استعمال کے تدارک کے لئے میکسیکو کی حکومت کے اقدامات میں دلچسپی کا اظہار کیا جن میں ’’باکسنگ برائے امن‘‘ پروگرام بھی شامل ہے جو فعال طرز زندگی کو فروغ دینے اور باہمی تعلقات استوار کرنے کی کوشش میں باکسنگ کی مفت کلاسز فراہم کرتا ہے۔


